Turkey lifts objections to Finland and Sweden's Nato bid

استنبول: (اے یو ایس ) ترکی فن لینڈ اور سویڈن کی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی رکنیت کی حمایت پر رضامند ہو گیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اسے دونوں نارڈک ممالک کے ساتھ مذاکرات سے وہ مل گیا ہے جو وہ چاہتا تھا ۔فن لینڈ کے صدر ساؤلی نینیسٹو نے کہا ہے کہ ترکی نے یہ فیصلہ صدر رجب طیب اردوغان کی ان کے اور سویڈش وزیراعظم میگڈالینا اینڈرسن کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا ہے۔ ناٹوکے سیکرٹری جنرل جینزاسٹولٹن برگ نے اس ملاقات کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

نینیسٹو نے ایک بیان میں کہا کہ اس ملاقات کے نتیجے میں ہمارے وزرائے خارجہ نے سہ فریقی یادداشت پر دست خط کیے ہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ترکی رواں ہفتے میڈرڈ سربراہ اجلاس میں فن لینڈ اور سویڈن کو ناٹوکا رکن بننے کی دعوت کی حمایت کرے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ ناٹو میں ہماری شمولیت کے ٹھوس اقدامات پر تنظیم کے رکن ممالک کی جانب سے اگلے دو روز کے دوران میں اتفاق کیا جائے گا لیکن اب یہ فیصلہ قریب ہے۔ان کے بقول طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت تینوں ممالک کے اس عزم کی نشان دہی کرتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی سلامتی کولاحق خطرات کے خلاف اپنی مکمل حمایت کریں گے۔سویڈن اورفن لینڈ ناٹو کی رکنیت کے ذریعے اپنی سلامتی بڑھانے کے خواہاں ہیں۔یوکرین پر روس کے حملے کے تناظرمیں ان کی رکنیت کی درخواست نے فوجی اتحاد میں گذشتہ کئی دہائیوں سے کسی نئے ملک کی شمولیت کی روایت کا بھی خاتمہ کیا ہے۔

ترکی نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ اسے دونوں ممالک کی ناٹو میں شمولیت پر اعتراضات ہیں۔اس نے ان پر کرد عسکریت پسندوں یعنی کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی حمایت کرنے کا الزام لگایا تھا۔ترکی اس جماعت کو دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اوردونوں نارڈک ممالک مبیّنہ طور پراپنے یہاں موجود درجنوں مشتبہ دہشت گردوںکو اس کے حوالے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔خاص طور پر امریکا کے مقیم مذہبی رہ نما فتح اللہ گولن کے پیروکار کو ترکی کے حوالے نہیں کیا گیا، جن پر ترکی نے 2016 میں حکومت مخالف بغاوت کی کوشش میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔دریں اثنا سرکاری خبر رساں ادارے اناطولو کی رپورٹ کے مطابق ترک مواصلات ڈائریکٹوریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ فن لینڈ اور سویڈن نے پی کے کے اور اس سے وابستہ اداروں کے خلاف جنگ میں ترکی کے ساتھ مکمل تعاون پراتفاق کیا ہے اورملک کو وہ مل گیا،جو وہ چاہتا تھا۔