Afghanistan increases coal prices by 30% after Pakistan PM approves imports from Kabul

اسلام آباد: بجلی کے بحران سے دوچار پاکستان کو اب دوست طالبان کی جانب سے بڑا دھچکا لگا ہے۔ پاکستان کی شہباز حکومت بڑھتی مہنگائی سے بچنے کے لیے افغانستان سے سستا کوئلہ لینا چاہتی تھی۔ جب طالبان کو پاکستان کے اس فیصلے کا علم ہوا تو انہوں نے افغان کوئلے کی قیمت میں تیس فیصد اضافہ کر دیا۔ طالبان کے اس دعوے سے اب پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اپنے شہریوں کو مہنگی بجلی فراہم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔پاکستان میں اس وقت بجلی کی زبردست کٹوتی ہے جس کی وجہ سے عوام پریشان ہیں اور کئی مقامات پر مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔

افغان وزارت نے کہا کہ انہوں نے یہ قیمت دنیا بھر میں کوئلے کی قیمت میں اضافے کے باعث بڑھائی ہے۔پاکستان کے بڑے شہروں کو مسلسل بجلی کی کٹوتی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اب ٹیلی کام آپریٹرز نے ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ دریں اثنا، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ انہیں جولائی کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان میں 22 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ ضرورت 26 ہزار میگاواٹ ہے۔

ایسے میں پاکستان میں 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان میں بجلی کی قلت بڑھ کر 7800 میگاواٹ ہو گئی ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر پاور پلانٹس تیل کے ذریعے بجلی پیدا کرتے ہیں۔پاکستان میں بجلی کے بحران کی بڑی وجہ معاشی حالت ہے۔ درحقیقت پاکستان میں زیادہ تر پاور پلانٹس تیل کے ذریعے بجلی پیدا کرتے ہیں۔ ان پاور پلانٹس میں استعمال ہونے والا تیل بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ یوکرین کی جنگ کے بعد دنیا بھر میں تیل کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اس وقت پاکستانی روپیہ 202 روپے فی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ایسے میں حکومت تیل کی درآمد کو کم سے کم کرنا چاہتی ہے۔