China’s forced organ harvesting trade exposed as another witness comes forward

بیجنگ: چین پر اکثر انسانی اعضا کی تجارت کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ لیکن ایک اور گواہ کے سامنے آنے سے اس کی اس ظالمانہ حرکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ چین میں جبری اعضا کٹوانے کا کاروبار عروج پر ہے۔ حالیہ دہائیوں میں، چینی حکام نے دعوی کیا ہے کہ ان کے ملک میں اعضا کی پیوند کاری کی صنعت عروج پر ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا دعویٰ ہے کہ یہ انڈسٹری بہت جلد امریکی میڈیکل انڈسٹری کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ لیکن اس شعبے کے سرکردہ ماہرین کی تحقیق سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ چین کی ٹرانسپلانٹ انڈسٹری میں اس کا بہت گہرا، خطرناک اور اکثر غیر قانونی پہلو شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق کمیونسٹ حکومت تنہائی کے کیمپوں میں قید ہزاروں قیدیوں کو قتل کر رہی ہے تاکہ ان کے اعضا کاٹ کر مقامی اور غیر ملکی صارفین کو مہنگے داموں فروخت کیے جا سکیں۔ ایک سابق جاپانی مجرمانہ گروہ کا ممبر اس کے بارے اپنے تجربے کو لیکر سامنے آگیا ہے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح چینی سرجنوں نے ایک نوجوان کو بھاگنے سے روکنے کے لیے اس کی نس کاٹ دی اور پھر اسے بے ہوش کر دیا۔ وژن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سرجنوں نے اس کے بعد اس کے جسم سے لیورنکالنے کے لیے اس کا آپریشن کیا۔ دریں اثنا، ماہرین، سیاست دانوں اور متاثرین نے مشترکہ طور پر چینی کمیونسٹ پارٹی کے (سی سی پی)پر زبردستی اعضا کاٹنے کے دھندے میں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بدھ کے روز بروسلز میں منعقدہ سیشن ”( جبری اعضا کی کٹائی کی تجارت: سی سی پی کے اسکینڈل پوری دنیا سکتے میں ) میں ان ماہرین نے اس کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کیا اور گواہوں کے بیانات سنے۔ اس میٹنگ کا اہتمام ممبر آف یورپین پارلیمنٹتھامس زیچو وسکی اور دیگر معززین نے کیا تھا۔تھامس زیچو وسکی نے کہا کہ چین کی حکومت کی حمایت یافتہ اعضا کی کٹائی اور تجارتی پالیسی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ تائیوان کے دورے کے دوران وہ ذاتی طور پر ان لوگوں سے ملے جن کے اعضا زبردستی نکالے گئے تھے اور جو اس تکلیف دہ تجربے سے گزرے تھے۔