Iran's entry into BRICS will increase India's tension: Experts report

نئی دہلی: چین، ہندوستان، جنوبی افریقہ ،برازیل اور روس پر مشتمل برکس میں ایران کی بھی شمولیت کے حوالے سے سوالات نے جنم لینا شروع کر دیا ہے کہ اگر ایران کو برکس میں شامل کر لیا گیا تو ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ برکس کی اس تبدیلی کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے ہندوستان کے سامنے ایک نیا چیلنج درپیش ہوگا۔ ایران کی برکس میں شمولیت سے یقینی طور پر نئی تبدیلیاں آئیں گی۔ خارجہ امور کے ماہر پروفیسر ہرش وی پنت کے مطابق ایران نے برکس کا حصہ بننے کے لیے درخواست دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کے اس اعلان کے بعد سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے داخلے سے ہندوستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا؟ یہی نہیں، اگر ایران برکس میں شامل ہوتا ہے تو اس تنظیم میں امریکہ مخالف ممالک کی تعداد بڑھ جائے گی۔

ایران لمبے عرصے سے امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ اسے نئی منڈیوں کی بھی ضرورت ہے اور برکس اس کے لیے بہترین موقع ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ایران اور ہندوستان کے تعلقات کے درمیان امریکہ کے ساتھ توازن رکھنا ہندوستان کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ چین کے اس ا قدام سے ہندوستان کی تشویش لازمی ہے۔ پروفیسر پنت اسے چین اور امریکہ کے باہمی تنازعات اور اختلافات کے درمیان ہندوستان توازن اور اپنی اہمیت کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے نظریے سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مزید ممالک کی برکس میں شمولیت کی بات ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے ، لیکن چین اور روس کی مغرب مخالف پالیسی اور کواڈ جیسے مغربی حمایت یافتہ گروپ میں ہندوستان کی شمولیت ایران کی رکنیت کو اہم بناتی ہے۔ اس کا اثر نہ صرف برکس پر پڑے گا بلکہ اس کا اثر ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بھی پڑے گا جو امریکہ اور روس کے درمیان توازن برقرار رکھے ہوئے ہے۔

پروفیسر پنت نے کہا کہ اس سے ہندوستان کے لیے آزاد خارجہ پالیسی کا راستہ مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی برکس کی اہمیت بھی کم ہو سکتی ہے۔ یہ بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس سے امریکہ کے لیے ہندوستان کی اہمیت بڑھ سکتی ہے۔ پروفیسر پنت کے مطابق، برکس کو مغرب کے معاشی متبادل کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے تاکہ مغرب کے ساتھ سودے بازی کی طاقت بڑھ سکے۔ اس کے ساتھ اس پر انحصار بھی کم ہو سکے ۔ اب چین اس دھڑے کو امریکہ کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 14ویں کانفرنس میں بھی امریکہ کو نشانہ بناتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ وہ دھڑے بندی نہ کرے اور سرد جنگ کی ذہنیت کو فروغ نہ دے۔

دوسری جانب، اس بار روس بھی چین کے ساتھ کھل کر دکھا رہا ہے۔ لیکن، جب چین ابھرتی ہوئی طاقت بن گیا، امریکہ نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کی، چین کو ایشیا میں ہندوستان کے ذریعے چیلنج کیا گیا۔ یہ ہندوستان کے حق میں تھا کیونکہ اس کا چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ ہے۔ تاہم ہندوستان ایک آزاد خارجہ پالیسی کی وکالت کرتا رہا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ کسی ایک دھڑے کا حصہ نہیں بنے گا اور اپنے مفادات کے مطابق گروپوں میں شامل ہوگا۔