Rights Group accuses Palestinians of systematically torturing civilians

رملہ: (اے یو ایس )انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے فلسطینی اتھارٹی اور غزہ کی پٹی کے علاقے کی حکمران جماعت حماس پر انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔دوسر طرف فلسطینی اتھارٹی اور اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے ہیومن رائٹس واچ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں اس نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں حریف سیاسی گروپوں پرالزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین پر تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہیںحماس اور فلسطینی اتھارٹی نے عالمی ادارے کی رپورٹ کے جواب میں کہا ہے کہ تشدد سے متعلق الزامات اور خلاف ورزیاں انفرادی معاملات سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ ان واقعات کی تحقیقات کی گئی ہیں اور مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے۔

تشدد کے خلاف اقوام متحدہ کی کمیٹی کو اپنی رپورٹ میں تنظیم نے عطیہ دینے والے ممالک سے فلسطینی سکیورٹی سروسز کی مالی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کرے۔ 2021 کے دوران انسانی حقوق کے آزاد کمیشن کو تشدد اور ناروا سلوک کی 250 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔ تقریباً 280 شکایات مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے خلاف من مانی گرفتاریوں اور زیر حراست سیاسی کارکنوں پر تشدد سے متعلق تھیں جب کہ 97 غزہ میں حماس کے خلاف من مانی گرفتاریوں کے بارے میں موصول ہوئیں۔ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق جون 2021 میں فلسطینی سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے منحرف سماجی رہنما نزار بنات کو ہلاک کرنے کے بعد فلسطینی پولیس نے انصاف کے مطالبے کے لیے کئی ہفتوں کے عوامی مظاہروں کو دبایا اور درجنوں کو ان کے پرامن احتجاج پر گرفتار کر لیا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بنات کا قتل اور مظاہروں کو دبانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی من مانی گرفتاری اور اذیت رسانی پر چل رہی ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی اور حماس نظربندوں کو تشدد کا نشانہ بناتے اور دھمکیاں دیتے ہیں۔ قیدیوں کوتنہائی میں رکھا جاتا ہے اور انہیں مارا پیٹا جاتا ہے‘۔بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق تشدد کی اقسام میں سے زیر حراست افراد کو کوڑے مارنا اور انہیں طویل عرصے تک تکلیف دہ حالت میں بیٹھنے یا کھڑے رہنے پرمجبور کرنا ہے۔تنظیم نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کرے جن پر اس نے اتفاق کیا ہے۔ سنگین خلاف ورزیوں کو ختم کیا جائے اور ذمہ داروں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔