Saudi Arabia arrests 300 pilgrims without permits

ریاض: (اے یو ایس ) سعودی حکام نے حج 2022 کے قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں کم از کم 288 افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔حج 2022 کا باقاعدہ آغاز جمعرات سے ہو گا جس کے لیے لاکھوں عازمین دنیا بھر سے مکہ پہنچ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس مرتبہ 10 لاکھ افراد فریضہ حج ادا کریں گے جس کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔حج انتظامات کی فورسز کے کمانڈر میجر جنرل صالح المربع نے پیر کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ رواں برس غیر قانونی طور پر حج کے انتظامات کرنے اور فریضہ حج ادا کرنے والے 288 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

جنرل صالح نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں 63 وہ ہیں جو ملک بھر میں غیر قانونی طور پر حج کی مہم چلا رہے تھے جب کہ آٹھ ٹرانسپورٹرز بھی شامل ہیں جن کا کام حاجیوں کو مکہ تک لانا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ 288 ملزمان میں مقامی شہری اور غیرملکی بھی ہیں جن پر 60 ہزار ریال تک جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق ملزمان میں غیر قانونی طور پر فریضہ حج کی ادائیگی کے خواہش مندوں اور ان کے سہولت کاروں سمیت غیر قانونی ٹرانسپورٹرز شامل ہیں۔

جنرل صالح کے بقول حاجیوں کے لیے غیر قانونی ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کا جرم ثابت ہونے پر ملزمان کو کم از کم چھ ماہ جیل بھی ہو سکتی ہے اور اگر اس میں کوئی غیر ملکی ملوث پایا گیا تو اسے ملک بدر کر دیا جائے گا۔حج سیکیورٹی فورسز کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل محمد البسامی نے کہا ہے کہ حج کے دوران سیاسی نعرے بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پیر کو حج انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ وزارتِ داخلہ ایسے کسی اقدام کو برداشت نہیں کرے گی جو عازمین کی سیکیورٹی پر اثر انداز ہونے کی وجہ بنے۔