China warns top US general off 'arbitrary provocations'

بیجنگ: دو طرفہ تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناو¿ کے درمیان، چین نے امریکہ سے دونوں ممالک کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی ڈیجیٹل میٹنگ کے دوران تائیوان کے ساتھ فوجی ملی بھگت بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی فوج کے سربراہ جنرل لی زوچینگ نے جمعرات کو امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارک ملی کو بتایا کہ چین کے لیے اس کے ‘ بنیادی مفادات’ سے متعلق معاملات پرسمجھوتہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ کہ خود مختار تائیوان ان بنیادی مفادات میں شامل ہے۔

چین تائیوان پر دعوی کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے طاقت کے ذریعے ضم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لی نے کہا کہ چین امریکہ سے تاریخ کو پلٹنے ، تائیوان کے ساتھ ملی بھگت نہیں کرنے ، چین – امریکہ تعلقات اور آبنائے تائیوان میں استحکام کو متاثر کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی فوج “قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مضبوطی سے دفاع کرے گی۔ چین باقاعدہ ایسی زبان استعمال کرتا ہے اور اس کی وزارت دفاع کی ریلیز کے مطابق، لی نے کہا کہ جان بوجھ کر تنازعہ پیدا کرنے اور اشتعال انگیز واقعات کے بجائے چین کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کو بڑھانے کی امید کرتا ہے۔

چین حملے کی اپنی دھمکی کو جگ ظاہر کرنے کے لئے باقاعدہ طور پر جنگی طیارے تائیوان کے قریب اڑاتا ہے۔ تائیوان کی وزارت دفاع کے مطابق جمعہ کی صبح چینی فضائیہ کے طیارے نے دونوں فریق کوتقسیم کرنے والی آبنائے تائیوان کی درمیانی لائن کو عبور کیا۔ لی اور ملی کے درمیان ملاقات سے قبل چینی وزیر دفاع وی فینگ نے گزشتہ ماہ علاقائی سلامتی کانفرنس میں ایک تہلکہ خیز بیان دیا تھا۔ اس کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن بھی موجود تھے۔