Germany's Afghanistan mission investigated — What went wrong and why?

کابل: (اے یوایس)جرمن پارلیمان بنڈس ٹاگ کے ایک فیصلے کے مطابق افغانستان سے جرمن فوجی دستوں کی واپسی اور پھر وہاں سے شہری انخلا کے عمل اور اس میں خامیوں اور ممکنہ کوتاہیوں کی ایک پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے باقاعدہ چھان بین کی جائے گی۔جرمن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے اس معاملے کی جامع تفتیش اور حقائق کے تعین کی ذمے داری ایک پارلیمانی کمیٹی کو سونپنے کا فیصلہ8 جولائی کی صبح کیا۔

یہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی 12 منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔یہ کمیٹی پتہ چلائے گی کہ افغانستان میں کئی برسوں تک تعیناتی کے بعد ہندوکش کی اس ریاست سے جرمن فوجی دستوں کی حتمی واپسی اور اس کے بعد شروع ہونے والے شہری انخلا کے عمل میں تب کیا کیا غلطیاں ہوئی تھیں اور ان سے جرمنی مستقبل کے لیے کیا سبق سیکھ سکتا ہے۔

بنڈس ٹاگ کی اس کمیٹی کا سربراہ جرمن چانسلر اولاف شولس کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان رالف اشٹیگنر کو بنایا گیا ہے۔انہوں نے اس کمیٹی کی تشکیل کے بعد کہا کہ ہمارا کام یہ نہیں کہ ہم ممکنہ طور پر قصور وار افراد کی تلاش کریں۔ اس کے برعکس ہمارا فرض اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ وہ غلطیاں جو ظاہر ہے کی گئیں، انہیں مستقبل میں کبھی دہرایا نہ جائے۔جرمن حکومت نے افغانستان میں کئی برسوں سے تعینات وفاقی فوج کے دستے انہی دنوں کے دوران حتمی طور پر واپس بلا لیے تھے، جب گزشتہ برس موسم گرما میں افغانستان میں حالات ساری دنیا کو حیران کر دینے کی حد تک بدل گئے تھے اور قدامت پرست طالبان عسکریت پسند ایک بار پھر اقتدار میں آ گئے تھے۔