Taliban's deputy foreign minister of calls for girls'education

کابل: (اے یو ایس ) طالبان حکومت کے نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستنکزئی نے کہا کہ ہے خواتین کو ان کے حقوق دیے جانے چاہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکیوں کو محفوظ ماحول میں تعلیم فراہم کرے۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور کی برسی کے موقع پر ایک اجتماع سے خطاب میں ستنکزئی نے کہا کہ خواتین ملک کی آبادی کا نصف ہیں۔ ان کو بھی افغانستان کی ثقافت اور اسلامی اقدار کے مطابق ان کے حقوق دیے جانے چاہیں۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا ہے۔ ان کو تعلیم کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ خواتین شریعت کی تعلیم کہاں سے حاصل کریں گی؟ خواتین ملک کی آبادی کا نصف ہیں۔

نائب وزیر خارجہ نے معاشی شعبے میں ترقی کے لیے کم بجٹ وقف کیے جانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ لوگوں کو معاشی مشکلات کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ عباس ستنکزئی نے مزید سیاسی اور سفارتی کوششوں پر زور دیا۔نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر ممالک طالبان پر خواتین کی ثانوی تعلیم کے دروازے بند ہونے پر تنقید کر رہے ہیں۔واشنگٹن بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ جب تک طالبان خواتین پر عائد پابندیوں کو واپس نہیں لیتے اور متنوع اقلیتی افغان گروہوں کے نمائندوں کو بھی حکومت میں شامل نہیں کرتے، تب تک انہیں ایک جائز حکومت کے طور پر تسلیم کرنا ممکن نہیں۔

گزشتہ روز امریکہ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں طالبان کو خبردار کیا کہ گزشتہ 20 برسوں میں عالمی برادری کی جانب سے کی جانے والی کاوشوں سے افغانستان کے مستقبل کی تشکیل کی جائے گی، اور طالبان لاکھوں افغانوں پرصرف اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”افغان عوام کو زندگی میں کچھ آزادیوں اوراچھی معیشت کے ساتھ زندگی کے ایک مخصوص معیار کی توقع کی ہے۔اور اِنہیں مطالبات کی بنیاد پر مستقبل میں طالبان کی پالیسیز کی تشکیل میں مدد ملے گی۔