A Palestinian killed his father and buried him in the courtyard of the house

رملہ: (اے یو ایس ) فلسطین کے علاقے غرب اردن سے زیادہ تر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان خون ریز جھڑپوں کی خبریں آتی رہتی ہیں مگرغرب اردن کے شمالی شہر جنین میں ایک بد بخت شخص نے اپنے والد کو قتل کرکے اس کی لاش صحن میں دفن کردی۔فلسطینی شہری دفاع کے عملے نے منگل کی صبح شہر کے جنوب میں واقع قصبے عجہ میں ایک گھرکے صحن میں مضبوط کنکریٹ کے نیچے سے ایک شخص کی لاش نکالی۔تفصیلات کے مطابق فلسطینی پولیس نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ ایک نوجوان نے انہیں بتایا کہ اس نے اپنے والد کی لاش کو جنین کے جنوب میں واقع قصبے عجہ میں اپنے گھر کے صحن میں دفن کیا تھا اور اس پر سیمنٹ ڈالا تھا۔پولیس کا کنا ہے کہ سکیورٹی سروسز اس مقام پر پہنچیں اور لاش ملنے تک اس کی تلاش جاری رکھی۔

پولیس نے بتایا کہ سول ڈیفنس کا عملہ دو گھنٹے کی کھدائی اور تلاش کے بعد شہری کی لاش کو اس کے گھر کے صحن میں مضبوط کنکریٹ کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوا اور لاش کو متعلقہ حکام کے حوالے کر کے تحقیقات مکمل کر لیں۔اس کے علاوہ مقامی میڈیا نے بتایا کہ 46 سالہ راضی راشد عمریہ کو ان کے 20 سالہ بیٹے عامر نے قتل کر دیا تھا۔پولیس نے نشاندہی کی کہ یہ جرم 12 دن پہلے ہوا تھا اور قاتل نے آج تک اس پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔قابل ذکر ہے کہ بیٹے کے ہاتھوں باپ کے بہیمانہ قتل پر عوامی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔سوشل میڈیا پر شہریوں نے قاتل بد بخت کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔بعض سوشل میڈیا اکاو¿نٹس پرقاتل بیٹے اور اس کے مقتول والد کی تصاویر بھی شائع کیں۔ایک ویڈیو کلپ بھی نشر کیا گیا میں قاتل بیٹے کے اعتراف کے بعد سول ڈیفنس کے عملے کو لاش نکالنے کا کام کرتے دکھایا گیا۔