ISIS, Lashkar spin-off claim Srinagar attack   

نئی دہلی: (اے یوایس ) دولت اسلامیہ (داعش) اور لشکر طیبہ کی ایک شاخ مزاحمتی محاذ (ٹی آر ایف ) نے منگل کو سری نگر شہر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ جو لوگ مرکز کو خوش کرنے کے لیے جموں و کشمیر پولیس سمیت مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں انہیں ایسے ہی حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ منگل کے واقعے میں دہشت گردوں کو سری نگر کے قلب میں پولیس اہلکاروں پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں سیکیورٹی سسٹم کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ ویڈیو دہشت گردوں نے ایک خاص مقصد کے ساتھ حملہ کرنے کے بعد جاری کیا ہے۔ حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔موقع پر موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ داعش اور ٹی آر ایف نے اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ٹی آر ایف لشکر طیبہ کی ایک شاخ ہے جو 2019 میں مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد ابھری ہے۔

ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پرمیڈیا کو بتایاانہوں نے حملے کی فلم بندی کے لیے پیشہ ورانہ باڈی کیمروں کا استعمال کیا اور بعد میں ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ویڈیو جاری کی۔ اس افسر کے مطابق اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حملے میں تین دہشت گرد ملوث تھے ان میں سے دو موٹر سائیکل پر آئے اور فائرنگ شروع کر دی جسے جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے لیکن اے کے 47رائفل کی آواز بھی سنائی دے رہی ہے جس سے کسی اور دہشت گرد کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے۔ اہلکار نے کہا کہ امکان ہے کہ تیسرا دہشت گرد کسی اور موٹر سائیکل پر تھا۔انہوں نے کہا کہ سری نگر میں 15 دنوں میں دہشت گردوں کی طرف سے فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ امرناتھ یاترا شروع ہونے کے بعد یہ پہلا حملہ تھا۔

خفیہ معلومات میں ایسے مزید حملوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ یہ تیسرا حملہ تھا جس میں دہشت گردوں نے باڈی کیمروں کا استعمال کیا۔ اس سال کا یہ اس طرح کا پہلا حملہ ہے۔ اس سے پہلے بارہمولہ میں 2020 میں اور 2021 میں کیا گیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں تقریباً 700 نوجوان مختلف دہشت گرد تنظیموں سے منسلک ہو چکے ہیں۔ اس سال جون تک ان کی تعداد 70 کے لگ بھگ رہی ہے۔ کشمیر میں بڑھتے ہوئے اس طرح کے واقعات نے سیکورٹی فورسز کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے کہاداعش ہر طرح سے اپنا راستہ بنا رہی ہے اور اس میں کشمیر بھی شامل ہے۔ حالیہ واقعات مستقبل کے لیے انتباہ ثابت ہو سکتے ہیں۔