Sikkim Police personnel shoots dead 3 colleagues in Delhi

نئی دہلی: (اے یو ایس ) دہلی کے روہنی علاقہ میں واقع حیدر پور پلانٹ میں تعینات ایک جوان نے اپنے تین ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ پیر کو پیش آیا۔ اس واقعہ میں دو جوانوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی ہے جبکہ تیسرے نے اسپتال لے جائے جاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ پولس اس پورے معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ اب تک کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم جوان نے معمولی جھگڑے کے بعد اپنے ساتھیوں پر گولی چلائی۔ پولیس نے ملزم جوان کی شناخت 32 سالہ لانس نائک پروین رائے کے طور پر کی ہے۔

وہیں مرنے والے جوانوں کی شناخت کمانڈر پنٹو نمگیال بھوٹیا،اندر لال چھیتری اور دھان ہنگ سوبا کے طور پر کی گئی ہے۔ پنٹو کمانڈر کے عہدے پر تھا جب کہ دھا ن ہنگ کانسٹیبل تھا۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ واقعہ کے بعد پروین رائے نے خود فون کیا اور بتایا کہ اس نے پلانٹ کی بیرک میں اپنے ساتھیوں کو گولی مار دی تھی۔ پولیس نے تینوں جوانوں کی لاشیں قبضے میں لے لی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں پولیس/فوجی اہلکاروں کے غصے میں آکر اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ فوجیوں کی طویل ڈیوٹی اور کام کرنے کے مشکل حالات بتائے جاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے جموں و کشمیر میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا تھا جب پونچھ کے سورنکوٹ میں جمعہ کو صبح 5.30 بجے فوج کی علاقائی فوج کے ایک جوان نے اپنے ساتھیوں پر گولی چلا دی۔

اس واقعہ میں دو جوان ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ بعد میں اس جوان نے خود کو بھی گولی مار لی جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی۔اسی طرح کا واقعہ اس سال مارچ میں مغربی بنگال کے مرشد آباد میں بھی پیش آیا تھا۔ چیف کانسٹیبل جانسن ٹوپو نے مغربی بنگال کے ساگرپارہ میں بی ایس ایف کی 117 بٹالین میں بی ایس ایف کے چیف کانسٹیبل ایچ جی شیکھرن کو گولی مار دی۔ بعد میں اس نے اپنی سروس رائفل سے خود کو بھی گولی مار لی۔ دونوں کو فوری طور پر ساگرپارہ کے قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے انہیں مردہ قرار دیا۔