UAE President Sheikh Mohamed arrives in Paris for state visit

ابوظہبی: (اے یو ایس ) متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان گذشتہ روز اپنے پہلے غیرملکی سرکاری دورے پر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پہنچے ہیں۔ان کے ایجنڈے میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں تعاون کے معاہدوں اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت سرفہرست ہے۔ انہوں نے پیرس پہنچنے کے دوسرے روز پیرکو ایلزے محل میں اپنے فرانسیسی ہم منصب امانوایل میکرون سے ملاقات کی اور یو اے ای اور فرانس کے درمیان تعلقات کو استحکام بخشا ۔ یو اے ای صدر نے میکرون اور ان کے ملک فرانس کو متحدہ عرب امارات کے نہایت قریبی اتحادیوں میں سے ایک بتایا۔امیر یو اے ای نے عربی انگریزی اور فرانسیسی زبان میں ٹوئیٹر پر پیغام لکھا کہ میں یو اے ای کے ایک اسٹریٹجک اتحادی فرانس پہنچ کر اور اپنے دوست صدر امنوئل میکرون سے ملاقات کر کے بہت مسرت محسوس کر رہا ہوں وہ یہ دورہ امریکی صدر جوبائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے کے اختتام پر کررہے ہیں۔انھوں نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں صدربائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

فرانسیسی صدر کے ایک مشیر نے ڈیزل کی رسد کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ اس دورے کا ایک اہم پہلو”متحدہ عرب امارات کی جانب سے فرانس کو مہیا کی جانے والی ہائیڈروکاربن کی مقدارکے بارے میں دی گئی ضمانتوں“کو متعارف کرانا ہے۔واضح رہے کہ 2019 میں فرانس کو متحدہ عرب امارات کی برآمدات کا حجم 1.5 ارب یورو تک پہنچ گیا تھا۔اس میں زیادہ تر حصہ پیٹرولیم مصنوعات تھا لیکن امارات فی الحال فرانس کو ڈیزل مہیا نہیں کرتا ہے۔ایلزے محل کے ذرائع کے مطابق فرانس یوکرین میں تنازع کے تناظر میں اپنی رسد کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔اماراتی صدر کے تین روزہ دورے کے موقع پرٹرانسپورٹ اور فضلے کو ٹھکانے لگانے کے شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر بھی دست خط متوقع ہیں۔ قبل ازیں دسمبر میں یواے ای نے فرانس سے 80 رافیل جنگی طیارے خرید کرنے کے لیے ریکارڈ 14 ارب یورو کے معاہدے پر دست خط کیے تھے۔حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ متحدہ عرب امارات لوفرے میوزیم کی واحد غیرملکی شاخ کا میزبان ہے۔

یواے ای خطہ خلیج میں سب سے بڑی فرانسیسی اور فرانکوفون تارکین وطن کمیونٹی کا گھر ہے۔یواے ای کے برسوں سے حقیقی حکمران شیخ محمد نے مئی میں اپنے سوتیلے بھائی شیخ خلیفہ کی طویل علالت سے وفات کے بعد منصب صدارت سنبھالا تھا۔ان کے میزبان فرانسیسی صدرعمانوایل ماکرون سے اچھے دوستانہ تعلقات استوار ہیں۔صدر کی حیثیت سے اپنی پہلی غیرملکی منزل کے طور پر امریکا کے بجائے فرانس کا انتخاب کرکے شیخ محمد واشنگٹن کو ایک اشارہ بھیج سکتے ہیں اور یہ کہ ”ہم کسی قیمت پرامریکا کے مطالبات کا جواب دینے کی جلدی میں نہیں ہیں“۔متحدہ عرب امارات کئی دہائیوں سے واشنگٹن کا تزویراتی شراکت دار رہا ہے لیکن حالیہ مہینوں میں اس نے اپنی آزادی پرزوردیا ہے۔اس نے فروری میں یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت میں امریکا اورالبانیہ کی پیش کردہ قرارداد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ووٹ سے گریز کیا تھا۔