Israeli attacks feed distrust and fear in Iran

تل ابیب: (اے یو ایس )اخبار ’فنانشل ٹائمز‘ نے اطلاع دی ہے کہ ایران میں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس کے وزیر اور انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ نے حال ہی میں ایک عوامی مظاہرے کے دوران ایک ساتھ فوٹو شوٹ کرائے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اقعہ ہے جس میں ایرانی انٹیلی جنس وزیر اور پاسداران انقلاب کے محکمہ سراغرسانی کے سربراہ کو ایک ساتھ دیکھا گیا۔ اس اجتماعی فوٹو سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے اسرائیلی کارروائیوں کے مقابلے کے لیے متحد ہے۔ دونوں رہنماو¿ں کا ایک ساتھ تصویر کھنچوانا یہ پیغام ہے کہ ایران میں اسرائیلی دخل اندازی اور جاسوسی ایک مشترکہ تشویش کا معاملہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی دشمنی کو روکنے کا فیصلہ اس تشویش کی نشاندہی کرتا ہے جو ایرانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ ایرانی سڑکوں پر اسرائیل سے منسوب حملوں میں اضافے کے بارے میں پائی جاتی ہے، جس میں مئی میں ہونے والی وہ واردات بھی شامل ہے جس میں ایرانی فوج کے ایک کرنل کو اس کے گھر کے باہر نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا۔

ایرانی عہدیدار اسماعیل خطیب اور بریگیڈیئر جنرل محمد کاظمی نے انٹیلی جنس اور سکیورٹی سروسز کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کا عہد کیا۔یہ خدشتہ موجود ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری خفیہ جنگ چھپی جنگ کھلی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ اخبار نے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے اصلاح پسند سیاست دان کے حوالے سے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل نے تہران میں ایک بڑے پیمانے پر تنظیم قائم کر رکھی ہے اور وہ آزادانہ طور پر اپنی کارروائیاں چلا رہا ہے۔ اسرائیل واضح طور پر ایک مستحکم اور محفوظ ایران کی شبیہہ کو داغدار کرنے کے لیے حملے کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 12 سال میں کم از کم پانچ جوہری سائنسدانوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ ایک سائنسدان کو انتہائی پیچیدہ آپریشن میں ریمورٹ کنٹرل مشین گن سے 2020 قتل کیا گیا۔ایرانی انٹیلی جنس کو شبہ ہے کہ اسرائیل نے اپنے آرکائیوز سے خفیہ جوہری دستاویزات چرائے ہیں اور جوہری تنصیبات کو حملوں سے نشانہ بنایا ہے۔ 2018 میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے ملک نے ایرانی جوہری منصوبے سے متعلق نصف ٹن دستاویزات جمع کی ہیں اور یہ کہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پروگرام کے پرامن ہونے کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کے ترجمان نے فنانشل ٹائمز کی جانب سے تبصرہ کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا لیکن ایک غیر معمولی انٹرویو میں قومی سلامتی کے مشیر ایال ہولاتا نے مقامی چینل 13 نیوز کو بتایا کہ اسرائیل جیسا مناسب سمجھے گا وہ کام کرے گا۔ ہم نے گذشتہ ایک سال میں ایران کے اندر بہت سی چیزیں اکٹھی کی ہیں۔تاہم انہوں نے مزید تفصیلات میں نہیں بتائیں۔اخبار کے مطابق اسرائیل ایران کے ساتھ ڈیل کرنے کے اپنے ارادے کو چھپا نہیں رہا جو اب جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار سطح کے قریب یورینیم کی افزودگی کر رہا ہے۔سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر 2015 کے جوہری معاہدے سے دست برداری اختیار کی تھی مگرموجودہ امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیل کے خدشات کے باجود ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔