Islamic Emirate Leader Bans 'Unproven Allegations' Against Members

کابل: امارت اسلامیہ کے رہنما مولوی ہیبت اللہ اخندزادہ نے ایک فرمان جی کای ہے جس کی رو سے امارت اسلامیہ کے عہدیداروں کے خلاف ثبوت کے بغیر الزامات عائد کرنا یا ان پر تنقید کرنا ممنوع قرار دے دیا گیا۔اور کہا گیا کہ اس فرمان کی نافرمانی یا خلاف ورزی کرنے والوں کو خواہ وہ عام شہری ہوں یا ابلاغی ذرائع ہوں شریعت کے مطابق سزا دی جائے گی۔ سپریم لیڈر کے فرمان میں امارت اسلامیہ کی افواج سے عام معافی کا احترام کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد اسلامی احادیث بنا ثبوت کے عائد کردہ الزامات کو جھوٹ سمجھا جاتا ہے اور وہ سزا کے لائق ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام شہریوں اور میڈیا اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حکم نامے کو عملی جامہ پہنائیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ “اسلامی اقدار کی بنیاد پر حکام کے بارے میں غیر ضروری الزامات لگانے اور غلط تنقید کی شریعت ہر گز اجازت نہیں دیتی ۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علما ئے اسلام اور سرکاری ملازمین کی زبانی، اپنے عمل ، حرکات و سکنات یا کسی اور ذریعے سے تذلیل مناسب نہیں ہے۔

دریں اثنا، تجزیہ کاروں نے کہا کہ معیاری حکومت کو لچکدار ہونا چاہیے اور تنقید کو قبول کرنا چاہیے۔درحقیقت، تنقید کے اپنے فوائد بھی ہیں۔ تنقید نظام میں اصلاحات اور حکومت کے استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک سیاسی تجزیہ کار توریک فرہادی نے کہا کہ مجھے یہ بیان بہت سنجیدہ لگا اور یہ بیان غالباًان کچھ طالبان رہنماو¿ں کے عمل اور بیانات کے باعث ہی جاری کیا گیا ہوگا جنہوں نے حالیہ دنوں میں لڑکیوں کے اسکول کھولے جانے اور ان کی تعلیم کے حق میں اظہار خیال کیا ہے۔یونیورسٹی کے انسٹرکٹر نجیب اللہ جامی نے کہا کہ قومی آزادی، شہری آزادی، قانونی وضاحت اور تنقید کو، جو نظام کو بہتر کرتی ہیں، عوام کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔