An ‘out of Pakistan’ solution for population control—produce kids in non-Muslim nations

اسلام آباد: پاکستان کے وزرا اکثر اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ اب پاکستان کے وزیر صحت عبدالقادر نے اپنے ملک کے عوام کو ایسا مشورہ دے دیا جس سے ہر شخص انگشت بدنداں ہے ۔ پاکستانی وزیر صحت نے کہا ہے کہ جو لوگ زیادہ بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان سے چلے جائیں اور ایسے ممالک میں جا کر بچے پیدا کریں جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہے۔

پاکستانی وزیراعظم عالمی یوم آبادی کے موقع پر ایک پروگرام میں وہاں کی آبادی کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔اس دوران عبدالقادر نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو کم نہیں کرنا چاہتے۔ ہم مسلمانوں کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کو صحت مند اور تعلیم یافتہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہماری بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ کہتے ہیں اللہ دے رہا ہے اور ہم اسے بڑھا رہے ہیں۔ اس کے بعد وہ مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ ایسے ملک میں جائیں جہاں مسلمان اقلیت میں ہوں۔ یہاں تو ہم لوگ بہت ہیں۔

قابل غور ہے کہ حال ہی میں اقوام متحدہ نے آبادی کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2050 تک پاکستان کی آبادی 360 ملین سے تجاوز کر جائے گی۔ اس وقت پاکستان کی کل آبادی 23 کروڑ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ اقوام متحدہ نے آبادی پر اپنی رپورٹ، ورلڈ پاپولیشن پراسپیکٹس 2022 پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا کی مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے سال ہندوستان چین کو پیچھے چھوڑ کر سب سے زیادہ آبادی والے ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ جائے گا۔