No breakthrough in Pak scholars-TTP meeting

اسلام آباد: ایسا کہا جاتا ہے کہ پاکستانی علمائے دین اور تحریک طالبان پاکستان کے نمائندوں کے درمیان طویل انتظار کے بعد ہونے والے مذاکرات کا پہلا دور منگل کے روز کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔افغان طالبان ذرائع کے مطابق تحریک طالبا ن پاکستان اپنے ان دو مطالبات پر،سابق وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) سابقہ درجہ بحال کیا جائے اور انہیں اسلحہ سمیت پاکستان واپس آنے دیا جائے، اٹل ہیں۔ پاکستان نے ان مطالبات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور ملک کے آئین پر کسی قسم کی سودے بازی کو مسترد کر دیا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ مذاکرات آئین کے تحت ہو رہے ہیں۔ایک طالبان رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

قبل ازیں خبر رساں ایجنسی عالمی اردو سروس (اے یو ایس) کے مطابق پاکستان کے نامور مذہبی دانشور اور وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج مفتی تقی عثمانی کے قیادت میں علما پر مشتمل ایک20رکنی وفد دورہ افغانستان پر پیر کے روز کابل پہنچ گیا۔پاکستانی علما اور دانشوروں پر مشتمل یہ وفد کابل میں سرحد پار افغانستان میں روپوش کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے عہدیداروں سے ملاقات کرے گا۔ وفد میں پشاور سے تعلق رکھنے والے عالم دین کے ترجمان کے مطابق افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان کو حکومت کے ساتھ مصالحت کے لئے رکھی گئی شرائط میں لچک پیدا کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی جائیگی۔نامور مذہبی دانشور مفتی تقی عثمانی کے قیادت میں کابل جانے والے وفد میں جامعہ عثمانیہ پشاور کے مفتی غلام الرحمن، جماعت اشاعت و توحید کے سربراہ مولانا محمد طیب ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک نوشہرہ کے مہتمم مولانا انوار الحق، وفاق المدارس پاکستان کے مولانا حنیف جالندھری ، وفاق المدارس خیبرپختونخوا کے سربراہ مولانا حسین احمد، سابق ممبر خیبر پختونخوا اسمبلی شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس اور مختارالدین شاہ کر کربوغہ شامل ہیں۔

مفتی تقی عثمانی نے جون کے تیسرے ھفتے بھی کابل کا دورہ کرکے پاکستانی اور افغان طالبان عہدیداروں سے بات چیت کی تھی۔وفد میں شامل ایک مذہبی رھنما کے قریبی معتمد نے نام نہ بتانے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ وفد آئندہ جمعہ تک کابل میں رہیگا اور اس دوران کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ر ہنماوں کے علاوہ افغانستان میں طالبان حکومت کے اھم عہدیداروں کے ساتھ بھی بات چیت کرے گا۔افغانستان جانے والے وفد کے بارے میں نہ تو سرکاری طور پر اور نہ کالعدم ٹی ٹی پی نے کوئی بیان جاری کیا ھے۔علما پر مشتمل وفد طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ایک ایسے وقت میں افغانستان کا دورہ کر رہا ہے جب قبائلی اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں دھشت گردی اور تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل اھم مذہبی جماعت جمیعت العلما ئے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اپیل پر اتوار کو شمالی وزیرستان کے مرکزی انتظامی شہر میران شاہ سمیت مختلف شہروں اور قصبوں میں گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں کے خلاف مظاہرے کئے گئے ہیں۔