Iran nuclear talks restart in Vienna

جنیوا:(اے یو ایس ) ایران اور عالمی طاقتوں کے اعلیٰ عہدیداران جوہری مذاکرات کے لیے آسٹریائی دارالخلافہ ویانا پہنچ گئے جہاں مارچ کے بعد ان کی پہلی ملاقات ہو رہی ہے۔ ان سب مذاکرات کاروں کے اجتماع کے ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات کے نئے دور کا بھی آغاز ہو گیا۔ یہ مذاکرات ایران کے جوہری مقاصد سے متعلق معاہدہ کو کسی قسم کے خطرے سے بچانے کی راہیںتلاش کرنے کے لیے ہو رہے ہیں۔ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اس بارے میں بدھ کے روز کہا کہ ایرانی نمائندے کے طور پر علی باقری کانی مذاکرات کے اس دور میں عالمی طاقتوں کی طرف سے جوہری معاہدے کی بحالی کے سلسلے میں خیالات اور تصورات پر بھی بات ہوگی اور ایرانی تصورات بھی پیش کیے جائیں گے۔

ایرانی ترجمان نے یہ بھی کہا ‘یورپی یونین کے نمائندہ انریکے مورا بھی ویانا پہنچ رہے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ سات سال قبل ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ایک کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ادھر مورا نے ویانا کی طرف روانہ ہونے سے قبل اپنے ایک ٹویٹ بیان میں کہا کہ ویانا جاتے ہوئے میں ایران کے ساتھ ماضی میں ہونے والے پلان آف ایکشن ہماری کوشش ہے کہ کوآرڈینیٹرز کی طرف سے بیس جولائی کو پیش کیے گئے مسودے کی بنیاد پر پورا عمل درآمد کیا جائے۔انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا ہم ویانا میں مذاکرات کے لیے آسٹریا کے حکام کے ممنون ہیں۔ خیال رہے ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پچھلا دور ماہ جولائی کے دوران دوحہ میں ہوا تھا۔ ایران نے امریکا کےساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا اس لیے مورا نے ہی دوحہ میں امریکہ کی طرف سے ایران کےساتھ بات چیت کی تھی۔

ان بالواسطہ مذاکرات کا اسلسلہ دو روز جاری رہا تھا مگر کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا تھا۔ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذارات کا سلسلہ گذشتہ تقریبا ایک سال سے جاری ہے تاکہ 2015 میں ہونے والے معاہدے کی بحالی ممکن ہو جائے۔اس سے قبل ایران امریکا بات چیت ماہ مارچ کے دوران اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران کا اصرار تھا کہ ایرانی حمایت یافتہ تنظیم کو دہشت گرد تنظیم کی فہرست سے نکال سکا۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 2019 کے دوران کیا تھا۔2015 میں ہونےوالے معاہدے کے نتیجے میں امریکا نے ایران سے بہت ساری پابندیاں اٹھا لی تھیں۔ لیکن2018 میں امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو ایرانی جوہری معاہدے سے الگ کر لیا تھا اور ایران پر نئے سرے سے پابندیاں عائد کر دی تھیں ۔