Removed from power for publishing map including Kalapani

کھٹمنڈو: نیپال کے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے دعوی ٰکیا کہ ان کی حکومت نے کالاپانی، لمپیادھورا اور لیپولیکھ کو جوڑ کر نیپال کا ایک نیا نقشہ شائع کیا تھا ، اسی کی پاداش میں انہیں اقتدار سے معزول کیا گیا تھا۔ لیپولیکھ درہ کالاپانی کے قریب انتہائی مغربی نقطہ ہے اور یہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان متنازعہ سرحدی علاقہ بھی ہے۔ ہندوستان اور نیپال دونوں کالاپانی کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہیں۔ ہندوستان اسے اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ ضلع کا حصہ اور نیپال دھرچولا ضلع کا حصہ بتاتا ہے۔

نیپالی زبان میں لکھی گئی کتاب چکرویوہ ما ںنیپال کو جل سوتر کی ریلیز کے موقع پر اولی نے کہا کہ اس میں کوئی تنازعہ نہیں ہو سکتا کہ کالاپانی سمیت یہ تمام علاقے نیپال کا حصہ ہیں، کیونکہ نیپال اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہوئی سوگولی کے معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ دریائے مہاکالی کے مغرب میں واقع تمام علاقے نیپال کے ہیں۔

اہم اپوزیشن جماعت سی پی این-یو ایم ایل کے صدر اولی نے دعوی کیا کہ لیکن ان علاقوں کو نیپال سے ہٹا دیا گیا تھا اور میں اچھی طرح جانتا تھا کہ ان علاقوں کو نیپال میں شامل کرنے والے نقشے کی وجہ سے مجھے اقتدار سے زبردستی ہٹا دیا جائے گا۔ اولی نے سابق وزیر اعظم لوکندر بہادر چند اور سابق آبی وسائل کے وزیر پشوپتی شمشیر رانا کے ساتھ مشترکہ طور پر اس کتاب کا اجرا کیا گیا۔ کتاب کے مصنف آبی وسائل محکمے کے سابق سیکرٹری دوارکا ناتھ ڈھنگیل ہیں۔