U.S., Indonesia hold joint military drills amid China concerns

جکارتہ: ہند ۔ بحرالکاہل خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے درمیان، امریکہ اور انڈونیشیا نے آپسی تعلقات کے مضبوط ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے بدھ کے روز سماترا کے جزیرے میں سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کیا جس میں دیگر ممالک نے بھی شرکت کی۔ جکارتہ میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس سال اس فوجی مشق میں امریکہ، انڈونیشیا، آسٹریلیا، جاپان اور سنگاپور کے 5 ہزار سے زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ فوجی مشق 2009 سے شروع ہوئی تھی۔ تب سے اب تک اس سال سب سے زیادہ جوان اس میں حصہ لے رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اس فوجی مشق کا مقصد کسی بھی آپریشن کے دوران باہمی تعاون، صلاحیت اور اعتماد کو مضبوط کرنا اور آزاد اور خودمختار ہند-بحرالکاہل کی حمایت کرنا ہے۔ یو ایس آرمی پیسیفک کی کمانڈ کرنے والے جنرل چارلس فلن نے کہا کہ یہ امریکہ اور انڈونیشیا کی مصروفیت اور اس اہم خطے کی افواج کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی علامت ہے۔ فلن اور انڈونیشیا کے آرمی چیف جنرل اینڈیکا پرکاسا نے جنوبی سماترا صوبے کے بٹوراجا میں مشترکہ مشق کا آغاز کیا جو 14 اگست تک جاری رہے گی اور اس میں فوج، بحریہ، فضائیہ اور میرینز حصہ لے رہے ہیں۔

یہ مشق ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین کی وزارت دفاع نے منگل کی رات وارننگ دی تھی کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے سے دو طرفہ تعلقات پر سنگین اثرات پڑیں گے کیونکہ اس سے خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ فوج ان کے دورے کے جواب میں ٹارگٹڈ آپریشن شروع کرے گی۔