We all can make it, says Ruchira Kamboj as she takes charge as India's first woman UN envoy

نیو یارک: اقوام متحدہ میں ہندوستان کی پہلی خاتون مستقل نمائندہ کے طور پر عہدہ سنبھالنے والی سفیر روچیرا کمبوج نے کہا کہ وہ ایک تعمیری مدت کی منتظر ہیں جو کہ ملک کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی باقی مدت اور اس کے بعد بھی ہندوستان کی قومی ترجیحات کو کثیرالجہتی فریم ورک میں ڈھال پائے۔ 58 سالہ کمبوج نے منگل کے روز اپنی سفارتی اسناد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو پیش کیں۔ وہ 1987 بیچ کی انڈین فارن سروس آفیسر ہیں اور بھوٹان میں ہندوستان کی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

انہیں جون میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہندوستان کی مستقل نمائندہ کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے سفیر ٹی ایس ترمورتی کی جگہ لی ہے۔ کمبوج نے ایسے وقت میں چارج سنبھالا جب 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر ہندوستان کی دو سالہ مدت اس سال دسمبر میں ختم ہونے والی ہے۔ دسمبر میں ملک اقوام متحدہ کے اس طاقتور ادارے کی صدارت بھی کرے گا۔ ایک مختصر بیان میں، کمبوج نے کہا کہ مجھے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے کا عہدہ سنبھالنے پر فخر ہے، اور یہ ایک ایسے وقت میں اور بھی اہم ہو گیا ہے جب ہم اس سال ہندوستان کی آزادی کا کا 75 ویں جشن منا رہے ہیں۔

گٹیرس کے ساتھ ملاقات کے بعد، انہوں نے ٹویٹ کیا کہ آج، میں نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کے نئے مستقل نمائندے کی حیثیت سے اپنی اسناد عالمی ادارے کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو سونپ دی ہیں۔ اس عہدے پر ہندوستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی خاتون ہونا فخر کی بات ہے۔ تمام لڑکیوں سے کہنا چاہوں گی کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ کو اسناد دینے سے پہلے، کمبوج نے پیر کو ٹویٹ کیا کہ آج سلامتی کونسل میں اپنے تمام ساتھی سفیروں سے مل کر بہت اچھا لگا۔ اس نئے عہدے کے ذریعے اپنے ملک کی خدمت کرنا میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ کمبوج کے سابق سفیر ٹی ایس ترمورتی نے ان کے ٹویٹ کا جواب دیا’ مبارک ہو اور نیک خواہشات آپ کی کامیابی کے لیے روچیرا ۔