Explosion in kabul claims 8 lives, Islamic State claims responsibility

کابل : باوکود اس کے کہ طالبان کے بر سر اقتدار آنے کے بعد دہشت گردانہ حملوں یا ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن دولت اسلامیہ فی العرا ق و الشام (داعش) کی اہل تشیع برادری کے لوگوں کو ہدف بنا کر ہلاک کرنے کا سلسلہ ہنوز برقرار ہے ۔ تازہ ترین واردات میں جمعہ کے روز ہزارہ علاقہ میں یاد حسین مناتے ہوئے محرم کے ایک جلوس کو نشانہ بنا کر بم حملہ کیا گیا جس میں کم از کم8افراد ہلاک اور 18 زخمی ہوگئے۔ اس دھماکہ میں ایک ریہڑی کا استعمال کیاگیا تھا جس میں یہ دھماکہ خیز ماد بچھا یا گیا تھا۔

اس ریہڑی کو بم نصب کرنے کے بعد ایک ایسی جگہ لے جا کر کھڑا کر دیا گیا تھا جہاں خریدار کے لیے مقامی رہائشیوں کی بھیڑ بھاڑ رہا کرتی ہے۔کابل کے ایک محلے میں ، جہاں زیادہ تر اہل تشیع برادری کے لوگ آباد ہیں، ہونے والے اس بم دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی۔ پولس ترجمان خالد زردان نے بتایا کہ سلامتی د ستے دھماکہ میں ملوث افراد کی سرگرمی سے تلاش میں سرگرداں ہیں۔ امارات اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے س دھماکے میں8افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ دھماکا کرنے کا قبیح فعلانجام دینے الے ا سلام و ملک کے دشمن ہیں۔