Know India's 'One China policy' stand amid conflict with Taiwan over Nancy Pelosi visit

بیجنگ: امریکی پارلیمنٹ کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان سے بوکھلایا چین اب ہندوستان کو دھمکی دینے پر اتر آیا ہے۔ ہندوستانی ارکان پارلیمنٹ کے وفد کو تائیوان بھیجنے کے مشورے پر برہم چین نے ہندوستان کو وارننگ دی ہے وہ امریکہ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش نہ کرے۔ نئی دہلی میں چینی سفارت خانے نے ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ کا ایک وفد تائیوان بھیجنے کے کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ منیش تیواری کے مشورے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کو ون چائنا پالیسی پر قائم رہنا چاہیے اور خود کو تائیوان سے دور رکھنا چاہیے۔ چین کے سفارتخانے نے کہا کہ ون چائنا پالیسی عالمی برادری کے لیے مشترکہ اتفاق رائے کا اصول ہے۔ اس میں ہندوستان بھی آتا ہے اور یہ چین کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی بنیادی جڑ ہے۔

چینی سفارتخانے کے ترجمان وانگ شیاجیان نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان ان پہلے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے تسلیم کیا کہ صرف ایک چین ہے۔چینی فریق ون چائنا پالیسی کے اصول کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔چین نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب امریکی پارلیمنٹ کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے چینی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تائیوان کا دورہ کیا تھا۔ اس کی وجہ سے چین بری طرح مشتعل ہے اور وہ آبنائے تائیوان میں براہ راست فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ اس سے قبل کانگریس لیڈر منیش تیواری نے بی جے پی حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ہندوستانی ارکان پارلیمنٹ کی ایک ٹیم تائیوان بھیجنے پر غور کرے۔

منیش تیواری نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو پیلوسی کی طرح اس وفد کی قیادت کرنی چاہئے۔ ون چائنا پالیسی صرف عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرتی ہے جو 1949 میں وجود میں آئی تھی۔اس دوران بائیں بازو نے چین میں قوم پرستوں کو خانہ جنگی میں شکست دی۔ یہ قوم پرست تائیوان بھاگ گئے تھے۔ چین نے کبھی تائیوان کو تسلیم نہیں کیا۔ دوسرے ممالک کی طرح ہندوستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جو 1949 سے ون چائنا پالیسی کو تسلیم کرتے ہیں۔ تائیوان کے ساتھ ہندوستان کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ نئی دہلی میں انڈیا-تائپے ایسوسی ایشن ایک سفارت خانے کے طور پر کام کرتی ہے، جس کا چیف ایک سفارت کار ہوتا ہے۔ لداخ میں چین کی مذموم حرکت کے بعد ہر طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تائیوان کے ساتھ تعلقات بڑھائے۔ حکومت ہند نے ابھی تک اس پر کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔