Pakistan's FIA identifies four PTI employees in foreign funding case

اسلام آباد: (اے یو ایس) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اکنامک کرائم ونگ نے پی ٹی آئی کے ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کیس کی تحقیقات شروع کر دیں۔ نجی ٹی وی چینل 24نیوز کے مطابق تحقیقاتی ٹیموں کی رہنمائی اور کوارڈی نیشن کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹریننگ ڈاکٹر انعام وحید کی سربراہی میں 5رکنی سپیشل مانیٹرنگ ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایف آئی اے زونز اپنے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی کمپنیوں اور معاملات کی تحقیقات کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چند ملازمین کو نوٹس جاری کرکے ان کے بیانات بھی قلم بند کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں نامزد چار ملازمین کو طلب کیا گیا ہے جن میں عمران خان کا پرسنل سیکرٹری اور تحریک انصاف کے جنرل منیجر فنانس و دیگر شامل ہیں۔ ینوز انٹرنیشنل اخبار کے مطابق ایجنسی نے رپورٹ دی ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین محمد رفیق، طاہر اقبال ، نعمان افضل اور محمد ارشد کے بینک کھاتوں میں غیر ملکی چندہ منتقل کیا جاتا تھا۔ان چاروں میں سے محمد رفیق،محمد ارشد اور طاہر اقبال انکوائری میں شامل ہوئے اور اپنے ابتدائی بیانات قلم بند کروائے۔ محمد ارشد نے اپنے بیان میں کہا کہ فنڈنگ کون بھجواتا تھا، مجھے کچھ علم نہیں ہے۔ طاہر اقبال نے اپنے بیان میں بتایا کہ اکاﺅنٹس میں آنے والی رقم کیش یا بذریعہ چیک پارٹی کے فنانس منیجر کو دی جاتی تھی۔

فارن فنڈنگ دیگر اکاﺅنٹس کے علاوہ ملازمین کے مشاہرہ کھاتے میں بھی آتی رہی۔ ان ملازمین نے کہا کہ پی ٹی آئی کا شعبہ مالیات ان سے دستخط شدہ بل اور سادہ چیک لے لیتا تھا اور خود ہی ہمارے کھاتوں سے رقم نکلواتا رہتا تھا۔واضح ہو کہ یہ تحقیقات 2014سے معرض التوا میں پڑے کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سہ رکنی بنچ کے اس متفقہ فیصلہ کے جس میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ غیر ملکی چندہ وصول کیا تھا،چند روز بعد کی گئی ہے۔ 4اگست کو اتحادی حکومت نے اس فیصلہ کی روشنی میں پی ٹی آئی کے چیرمین اور سابق واعظم عمران خان کے خلاف ریفرنس داخل کرنے کا فیصلہ کر کے وفاقی کابینہ سے سفارش کی تھی جسے اس نے منظور کر لیا تھا۔