Biden welcomes ceasefire between Israel, Gaza-based militants

واشنگٹن:(اے یو ایس ) جمعہ کے دن سے جاری کشیدگی اور 44 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے۔امریکہ اور اقوام متحدہ کے رہنماو¿ں نے فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری جاری رکھیں۔ایک بیان میں، امریکی صدر جو بائیڈن نے جنگ بندی کی تعریف کی اور فریقین سے مطالبہ کیا کہ اس پر مکمل عملدرآمد کریں اور غزہ میں ایندھن اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔‘امریکی صدر نے شہریوں کی ہلاکتوں کی رپورٹس کی بروقت تحقیقات پر بھی زور دیا۔واضح رہے کہ یہ جنگ بندی مصر کی طرف سے ثالثی کے نتیجے میں ہوئی، جو ماضی میں بھی اسرائیل اور غزہ کے درمیان ثالث کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔فلسطینی وزارت صحت نے کہا تھا کہ تازہ ترین تشدد میں اتوار کی شام تک ریکارڈ کی گئی 44 اموات میں سے 15 بچوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے فلسطینیوں کی ہلاکت اور 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا ذمہ داراسرائیلی جارحیت کو قرار دیا ہے۔جمعہ کے روز سے جاری تشدد میں متعدد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذکرات مصر کی کوششوں سے اسرائیل اور اسلامی جہاد (پی آئی جے) کے درمیان ہوئے۔پی آئی جے کے ترجمان طارق سیلمی نے کہا کہ ہم مصری کوششوں کو سراہتے ہیں جو ہمارے لوگوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے کی گئیں۔اسرائیل نے کہا کہ اگر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو و ہسخت جواب دینے کا حق برقرار رکھتا ہے ۔اس سے قبل غزہ سے یروشلم پر راکٹ فائر کیے گئے۔ گذشتہ سال مئی کے بعد ایسا پہلی بار ہوا کہ غزہ سے راکٹ یروشلم تک پہنچے ہوں۔

فریقین کے درمیان جنگ بندی ایک ایسے وقت میں کی گئی جب غزہ میں ایک بحران پیدا ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ حکام نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں صرف دو دن کے لیے جنریٹر چلانے کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ ان میں سے کچھ اموات کی ذمہ دار پی آئی جے ہے۔اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے سنیچر کو ایک راکٹ داغا جس نے جبلیا میں بچوں کو ہلاک کیا۔ بی بی سی اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ اب تک اسرائیل میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔اتوار کے دن فلسطین کے علاقے رفح میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کے جنازے کے لیے ایک بڑا ہجوم اکھٹا ہوا۔ہلاک ہونے والوں میں پی آئی جے کے سینیئر کمانڈر خالد منصور بھی شامل ہیں۔ ویسٹ بینک کے شہر نابلس میں بھی غزہ کی حمایت میں مظاہرے ہوئے۔