NIA carries out raids in Doda, Jammu against JeI members in terror funding case

جموں: (اے یوایس) قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی ٹیموں نے یومِ آزادی سے قبل دہشت گردی فنڈنگ کیس میں پیر کی صبح جموں اور کشمیر کے جموں اور ڈوڈہ ضلع میںخلاف کئی مقامات پر کالعدم جماعت اسلامی کشمیر کے عہدیداران اور ارکان کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔تفصیلات کے مطابق، پیر کی صبح این آئی اے نے جموں اور ڈوڈہ ضلع میں کئی جگہوں پر چھاپے مارکاروائےاں شروع کیں۔ واضح ہو کہ یہ کیس جموں و کشمیر میں دہشت گردی کی فنڈنگ اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کی مدد کے متعلق ہے۔

سرکاری زرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے چھاپے والے مقامات کو گھیرے میں لے لیا ہے، تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔وہیں دن بھر تمام مقامات پر تلاشی کاروائیاں اور پوچھ تاچھ کا عمل بھی جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق ڈوڈہ ضلع میں دھارا گندانا، منشی محلہ، اکرم باند، نگری نئی بستی، کھرورتی بھگوا، تھلیلا اور ملوٹھی بھلہ میں اور جموں کے بھٹنڈی میں چھاپے مارے گئے۔

این آئی اے کا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کو جو چندہ ملتا ہے وہ حزب المجاہدین ، لشکر طیبہ اور دیگر کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو بھی پہنچتا ہے۔ جماعت اسلامی کے ارکان کی ، جو گھریلو اور بیرون ملک سے زکوٰة اور بیت المال کی شکل میں عطیات و چندہ میں جمع کرتے ہیں، سرگرمیوں پر گذشتہ سال این آئی اے نے از خود نوٹس لیتے ہوئے کیس درج کیا تھا۔اس کا کہنا ہے کہ خیراتی و دیگر فلاحی کاموں کے لیے جمع کی جانے والی رقومات تشدد آمیز اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔