Killing of senior TTP commanders in Afghanistan strikes blow to peace talk

وزیرستان: (اے یو ایس )تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے اہم کمانڈر عبدالولی مہمند المعروف عمر خالد خراسانی کی افغانستان میں ایک حملے میں ہلاکت کے بعد حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان جاری مذاکرات کے مستقبل پر سوال ا±ٹھائے جا رہے ہیں۔عمر خالد خراسانی اتوار کو ٹی ٹی پی کا گڑھ سمجھے جانے والے افغان صوبے پکتیکا میں ایک پراسرار بارودی دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔عمر خراسانی کی ہلاکت کے بعد بعض ماہرین پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور حکومتِ پاکستان نے جون میں غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔لیکن خراسانی کی ہلاکت کے اگلے ہی روز پیر کو شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے ایک قافلے پر خود کش حملے میں چار سیکیورٹی اہلکاروں ہلاک ہو گئے تھے۔ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات میں شامل ٹیم کے رکن سینیٹر ہلال الرحمان نے عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کو امن مذاکرات کے لیے بڑا دھچکہ قرار دیا ہے۔

عمر خالد خراسانی ایک سخت گیر کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے اور ان کے بارے میں یہ تاثر عام تھا کہ وہ ہمیشہ سے حکومت اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات کے مخالف تھے۔ تاہم ہلال الرحمان کے مطابق اب وہ کافی بدل گئے تھے۔خالد خراسانی کی ہلاکت کے بعد اپنی ٹویٹ میں سینیٹر ہلال الرحمان کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات کے دوران ا±ن کی کابل میں خالد خراسانی سے ملاقات ہوئی تھی۔ ا±ن کے بقول خالد خراسانی امن معاہدے کے لیے پرجوش اور پاکستان واپس آنا چاہتے تھے۔ لیکن ا±ن کی ہلاکت نے امن عمل کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔