Pharaoh was not genuine Egypt origin : says Egyptian cleric

قاہرہ: (اے یو ایس ) مصرکے ایک مبلغ ڈاکٹر اسامہ الازہری کے ایک متنازع بیان پر مذہبی حلقوں میں سخت رد عمل پایا جا رہا ہے۔ علامہ الازھری نے کہا ہے فرعون مستند مصری نہیں تھا بلکہ ایک ہیکسوس تھا۔ انہوں نے یہ بات عاشورہ کے موقعے پرکہی۔ عاشورہ پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرعون اور اس کے لشکر سے نجات اور بعد میں فرعون کے غرق ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

اسامہ الازہری جو مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے مشیر برائے مذہبی امور اور الازہر یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کرتے ہیں نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ ہمارے آقا موسیٰ علیہ السلام نے 40 سال تک فرعون کے ساتھ گذارے حالانکہ وہ متکبر اور ظالم شخص تھا۔نوجوان عالم دین نے مزید کہا کہ تاریخی تحقیق ہےاور یہ زیادہ درست ہے کہ فرعون ایک مستند مصری نہیں تھا بلکہ ایک ’ ہیکسوس‘ یعنی غیرملکی حکمران تھا۔

مصری کسی بھی طرح خدا سے دوری کی اس حد تک نہیں پہنچتا اور نتیجہ یہ ہے کہ اس دن خدا نے فرعون کے لیے آخری حد مقرر کی۔الازہری کے بیان نے مصر میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر حامیوں اور مخالفین کے درمیان بڑے پیمانے پر تنازعہ کو جنم دیا۔ یہ بحث اس لیے بھی شدت اختیار کرگئی ہے کیونکہ یہ دعویٰ ایک مذہبی شخصیت نے کیا ہے۔پانچ سال قبل ایک سوڈانی وزیر نے بھی ایسا ہی شوشہ چھوڑا تھا۔

سابق سوڈانی وزیر اطلاعات ونشریات احمد بلال نے دعویٰ کیا تھا کہ فرعون کا تعلق سوڈان سے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک میں جس فرعون کا ذکر ملتا ہے وہ مصر نہیں بلکہ سوڈانی تھا۔سوڈانی وزیر اطلاعات نے اپنے بیان میں دلیل دیتے ہوئے اس کے نیچے نہریں بہتی تھیں کی کہانی بیان کی اور کہا کہ مصر میں صرف ایک دریا ہے، جب کہ سوڈان دریاو¿ں کا ملک ہے اور یہ کہ سوڈان کی تاریخ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ تاریخ بھر میں بہت سے جھوٹ بیان کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں جس مجمع البحرین کا ذکر ہے وہ سوڈانی دارالحکومت خرطوم ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تھی۔