Spy agencies' priorities increasingly shifted to focusing on China

واشنگٹن: (اے یو ایس ) افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے ایک سال بعد اب صدر امریکہ جو بائیڈن اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام انسداد دہشت گردی کے بارے میں کم اور چین کے ساتھ ساتھ روس کی طرف سے بھی لاحق سیاسی، اقتصادی اور فوجی خطرات کے بارے میں زیادہ بات کرتے ہیں۔انٹیلیجینس ایجنسی کے انسداد دہشت گردی کے مرکز کے رہنماو¿ں کے ساتھ بند کمرے کی ایک حالیہ میٹنگ میں، سی آئی اے کے دوسرے سینیر ترین اہلکار نے واضح کیا کہ القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروپوں سے لڑنا ہماری ترجیح رہے گی، ساتھ ہی چین پرمزید توجہ مرکوز کرنے کے لیےایجنسی کے مالی اور دیگر وسائل کو تیزی سے منتقل کیا جائے گا۔

افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے ایک سال بعد، صدر جو بائیڈن اور قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام انسداد دہشت گردی کے بارے میں کم اور چین کے ساتھ ساتھ روس کی طرف سے لاحق سیاسی، اقتصادی اور فوجی خطرات کے بارے میں زیادہ بات کرتے ہیں۔ لیکن انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اندر ایک خاموش سرگرمی جاری ہے اور سینکڑوں افسران نے چین پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، جن میں کچھ ایسے بھی ہیں جو پہلے دہشت گردی پر کام کر رہے تھے۔انٹیلی جنس حکام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو شاید ہی نظر انداز کیا جا رہا ہو۔ صرف ایک ہفتہ قبل انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ سی آئی اے کے ڈرون حملے میں کابل میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت ہوئی تھی۔ لیکن کچھ دن بعد، چین نے بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں کیں اور ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے تائیوان کے دورے پر امریکہ کے ساتھ رابطے منقطع کرنے کی دھمکی دی۔

چین کی جانب اس طرح کے جارحانہ رویّے کی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن پہلے ہی نشاندہی کر چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی کی اولین ترجیح بیجنگ کو سمجھنا اور اس کا مقابلہ کرنا ہے۔امریکہ طویل عرصے سے چین کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی عزائم سے پریشان ہے۔ چین نے غیر ملکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے، سائبر اور کارپوریٹ جاسوسی کی مہمیں چلائی ہیں، اور لاکھوں اقلیتی ایغوروں کو کیمپوں میں نظر بند کر رکھا ہے۔ کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ بیجنگ آنے والے برسوں میں تائیوان کے خود مختار جمہوری جزیرے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کی کوشش کرے گا۔