Turkey to deport all Syrian refugees till 2023

دمشق:(اے یو ایس )ترکی کی ایک خاتون وزیر نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں موجود تمام شامی مہاجرین کو ایک سال کے اندر اندر ملک سے نکال دیا جائے گا۔ کسی ترک اعلیٰ عہدیدار کی طرف سے شامی پناہ گزینوں کو بے دخل کرنے سے متعلق یہ اپنی نوعیت کا پہلا بیان ہے۔ترکی کی خاتون وزیر برائے خاندانی اور سماجی امور داریا یانک نے شامی سرحد کے قریب واقعے اضنہ شہرمیں ایک تقریب سے خطاب میں یہ بات کی۔اضنہ شام کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں پر ادلب اور دوسرے شہروں سے فرار ہوکرآئے بڑی تعداد میں شامی پناہ گزین موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق ترکی کی خاندانی اور سماجی امور کی وزیر دریا یانک نے آئندہ سال 2023 تک شامی مہاجرین کو ترکی سے نکالنے کا وعدہ کیا ہے۔ آئندہ سال ترکیہ میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں جن میں شامی مہاجرین ایک تنازع بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ ترکیہ میں مقامی سطح پر شامی پناہ گزینوں کو ایک بوجھ سمجھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی’آق‘ اور اس کی مخالفت کرنے والی جماعتیں یکساں موقف رکھتی ہیں۔

اولڈ ہوم کے افتتاح کے موقعے پریانک نے شام میں کرد فورسز کے خلاف متوقع ترک فوجی آپریشن کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اپنے پڑوس میں دہشت گردریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اس لیے ترکیہ تین ماہ سے شام میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ترک وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ ہم اپنی کوششیں تیز کریں گے اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ کام کریں گے تاکہ 2023 کے بعد ہماری سرزمین پر کوئی بھی شامی نہ بچے۔ ایک ترک سیاسی تجزیہ کار کی وضاحت کے مطابق یہ بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ترکیہ کی سیاسی تجزیہ کار ہادیہ لیونت نے کہا کہ خاتون وزیر یانک کے بیانات ملک میں شامی مہاجرین کی موجودگی کے معاملے پر ترک حکومت اور حکمران جماعت کے سرکاری موقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

انہوں نے لعربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو مزید کہا کہ حکومت اور حکمراں جماعت، ان کے سرکردہ عہدیداروں کی جانب سے ایسے بیانات جاری کرنے کے باوجود، وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ وہ لاکھوں لوگوں کو زبردستی ملک بدر نہیں کر سکتے۔ ملک سے شامی باشندوں کی بڑی تعداد ہے۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ جب ترک حکومت کہتی ہے کہ وہ شامی پناہ گزینوں کو نہیں نکالے گی، تو یہ بیانات یانک کے حالیہ وعدے سے زیادہ حقیقت پسندانہ لگتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک حزب اختلاف کی جماعتوں کا تعلق ہے وہ اس وقت بھی غلطی پر ہیں جب وہ اپنے ووٹروں سے شامی پناہ گزینوں کو نکالنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر چونکہ وہ انتخابات جیتنے کی صورت میں انہیں ملک بدر نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے حزب اختلاف کی غلطی سنگین ہو گی۔ اور اگر وہ اپنے ووٹروں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کر پاتی تو وہ عوامی حمایت کھو دے گی۔