Court grants police two-day physical remand of Shahbaz Gill

اسلام آباد:(اے یو ایس ) اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو جسمانی ریمانڈ پر پولس کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو 12 اگست کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے اور اس کا طبی معائنہ بھی کرایا جائے۔واضح ہو کہ پی ٹی آئی کے گرفتار رہنما کو اسلام آباد کے تھانہ کوہسار پولیس کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ان کے وکیل فیصل چوہدری بھی عدالت میں پیش ہوئے۔اسلام آباد پولیس کی جانب سے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تاہم شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو موصول عدالتی حکم کے مطابق تفتیشی افسر نے جرم میں مبینہ طور پر ملوث دیگر افراد کے حوالے سے مزید تفتیش کے لیے شہباز گِل کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

حکم میں کہا گیا ہے کہ شہباز گل کا ریمانڈ فرانزک کے ذریعے وائس میچنگ کے لیے مبینہ طور پر جرم میں استعمال ہونے والے موبائل فون کو بر آمد کرنے اور ملزم کے اس انٹرویو کی تصدیق کے لیے بھی طلب کی گیا تھا جو اس نے کراچی میں واقع میڈیا ہیڈ ا?فس کو دیا تھا۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم کا ریمانڈ میڈیا ہاؤس سے ویڈیو کی تصدیق کے لیے طلب کیا گیا تھا۔شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مؤکل کا جسمانی ریمانڈ طلب کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے جبکہ وہ پہلے ہی تقریباً 24 گھنٹے سے پولیس کی تحویل میں تھے۔شہباز گل کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان کے مؤکل پر تشدد کیا گیا ہے اور ان کے طبی معائنے کی درخواست کی۔

عدالت کی جانب سے فیصلے میں 2 روزہ جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملزم کو 12 اگست کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ پروگرام کسی کے کہنے پر نہیں ہوا۔شہباز گل کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پیشی کے وقت اسلام آباد پولیس نے کمرہ عدالت میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔اسلام آباد پولیس کے اہلکار کا کہنا تھا کہ جج کا حکم ہے کہ صحافیوں کو اندر آنے نہ دیں۔قبل ازیں اسلام آباد کچہری میں پیشی کے موقع پر صحافی کے اس سوال پر کہ اداروں کے خلاف جو آپ نے باتیں کیں کیا وہ پارٹی پالیسی تھی، شہباز گل کا کہنا تھا ادارے ہماری جان ہیں، کبھی ان کے خلاف بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے متنازع بیان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے شرمندگی ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ محب وطن ہیں، کسی کو اکسانے کی کوشش نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں جو افسران غلط کام کرنے کا کہہ رہے ہیں، میں نے ان سے متعلق بات کی تھی۔شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے دعویٰ کیا کہ شہباز گل کے کپڑوں پر خون کے دھبے لگے ہیں، پتا نہیں کس مقام سے شہباز گل کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بنی گالا پولیس اسٹیشن میں شہباز گل کے اغوا کی درخواست دی ہے، ہم نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ انہیں جوڈیشل کردیں، ہم قانون کے مطابق درخواست دیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی ا?ئی کے رہنما شہباز گِل کو اسلام آباد پولیس نے قانون کے مطابق بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گِل کو اسلام آباد پولیس نے قانون کے مطابق بغاوت اور عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔اسلام آباد میں وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ شہباز گل کے خلاف باقاعدہ ایک مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا ہے اور صبح عدالت میں مقدمے کے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔