Ex-govt oficial decries ashura's omission from national calendar

کابل:گزشتہ حکومت کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے نائب اسد اللہ سعادتی نے ملکی کیلنڈر سے یوم عاشورہ کی تعطیل حذف کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔انہوں نے کابل میں ایک اجلاس میں اس دن ،جو10محرم کو شہادت حسین ؓ کی یاد میں یوم عاشورہ کے طو پر منایا جاتا ہے،عام تعطیل کو قومی کیلنڈر سے ہٹائے جانے پر تنقید کی۔اسد اللہ سعادتی کا کہنا ہے کہ ہزارہ برادری نسلی اور لسانی امتیاز سے بالاتر ہوکر سماجی انصاف چاہتی ہے۔

سعادتی نے کہا کہ میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ یہ دن نواسہ رسول ﷺ کا یوم شہادت کے طور پر منائے جانے کا مستحق ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ ہے اور ایک اسلامی ملک اور خاص طور پر جس ملک میں اسلامی حکومت ہو اس کے کیلنڈر میں اس روز کی اہمیت کے پیش نظر عام تعطیل ہونی چاہیے۔اسی دوران سابق حکومت کے متعدد عہدیداروں نے سرکاری کیلنڈر سے اس دن کو خارج کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ ہزارہ برادری کو منظم طریقے سے اخراج کا سامنا ہے۔ واضح ہو کہ 61 ہجری میں ماہ محرم کی دوسری تاریخ کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا قافلہ کربلا میں داخل ہوا اور یزید کے لشکر نے جن کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی تھی، نویں اور دسویں تاریخ کو حسین اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا گیا تھا۔

دریں اثنا نائب ویر خارجہ شیر محمد عباس استانک زئی نے 10 محرم الحرام کی مناسبت سے کابل میں منعقدہ ایک الگ تقریب میں کہا کہ امارت اسلامیہ کی پالیسی کی بنیاد پر افغانستان میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی مذہبی تقریبات اور ایام منانے کی آزادی ہے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں، حتیٰ کہ آپ اور میں اقلیت ہیں، ملک میں غیر مسلم بھی ہیں جو افغانستان میں رہ کر اپنے مذہبی تہوار و تقریبات مناتے ہیں اور کوئی انہیں پریشان نہیں کرتا۔