Sri Lanka electricity board raises electricity tariffs by up to 246%

کولمبو،(اے یو ایس )سری لنکا میں بجلی کی قیمت246فیصدتک بڑھا دی گئی۔ ڈیلی ڈان کے مطابق سری لنکا کی سرکاری اجارہ دار کمپنی کی طرف سے یہ بجلی بم کم سے کم بجلی استعمال کرنے والوں پر گرایا گیا ہے۔ جو لوگ زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے قیمت بہت کم بڑھائی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق سیلون الیکٹرسٹی بورڈ (سی ای بی)کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ 9سال میں پہلی بار ریگولیٹر نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دی ہے تاکہ 61کروڑ 60لاکھ ڈالر کے مجموعی نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

سی ای بی حکام نے بتایا کہ بجلی کا ٹیرف 800فیصد بڑھانے کی اجازت مانگی گئی تھی تاہم ریگولیٹر نے زیادہ سے زیادہ 246فیصد اضافے کی منظوری دی۔سرکاری ڈیٹا کے مطابق 78لاکھ گھرانوں میں سے دو تہائی، جو مہینے میں 90کلوواٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں وہ قیمت کیے گئے میں اس اضافے سے زیادہ متاثر ہوں گے جبکہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی 80فیصد مہنگی کی گئی ہے، کیونکہ ان کے لیے فی یونٹ قیمت پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ بجلی کم استعمال کرنے والوں کے لیے پہلے فی یونٹ قیمت اڑھائی (سری لنکن)روپے تھی جو 264فیصداضافے کے بعد 8روپے فی یونٹ ہو گئی ہے۔ اس کے برعکس بڑے صارفین کے لیے پہلے ہی فی یونٹ قیمت 45روپے تھی جو 80فیصد اضافے سے 75سری لنکن روپے ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ سری لنکا غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کے بعد بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ حتیٰ کہ حکومت کے پاس خوراک، تیل و گیس اور ادویات جیسی انتہائی ضروری اشیائ درآمد کرنے کے لیے بھی زرمبادلہ نہیں ہے۔ملک کو شدید افراط زر کا سامنا ہے۔ سی ای بی تھرمل جنریٹرز کے لیے ایندھن میسر نہ ہونے کی وجہ سے طویل لوڈ شیڈنگ بھی کر رہی ہے۔سری لنکا 51ارب ڈالر کے غیرملکی قرضے ادا نہیں کر سکا تھا جس کے بعد حکومت نے اپریل میں دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔