US lawmakers introduce bill to provide citizenship to Afghan refugees

واشنگٹن: (اے یو ایس ) امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ایک ایسا مسودہ قانون متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد ہزاروں افغانیوں کو امریکی شہریت کے لیے عبوری سہولت کے طور پر ایک راستہ دینا ہے۔ افغاانستان سے 15 اگست 2021 کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد وہاں سے فرار ہو کر امریکہ پہنچنے والوں یا امریکی شہریت کے لیے درخواست دینے والے امریکہ کے حامیوں کے لیے تقریبا ایک سال مکمل ہونے کے بعد بڑا اقدام کیا جارہا ہے۔اس مسودہ قانون کی حیثیت خصوصی امیگریشن ویزا کے حوالے سے اہلیت کے دائرے کو وسعت بھی دی جائے گی۔ یہ سہولت ایسے افغانیوں کے لےہے جنہوں نے امریکہ کی افغان جنگ کے دوران امریکہ کا بھر پور ساتھ دیا اور امریکی کمانڈوز کی کارروائیوں میں ان کے ساتھ رہنے کے علاوہ امریکی ائیر فورس کی اہم ترین کارروائیوں کا بھی اپنے انداز میں کردار ادا کیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اس عبوری سہولت سے وہ افغان خواتین بھی فائدہ اٹھائیں گی جنہوں نے افغانستان میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں امریکی فورسز کا ساتھ دیاتھا۔ یہ بل اس وقت متعارف کرایا گیا ہے جب امریکی فورسز کی افغانستان سے واپسی کے سلسلے میں آخری امریکی فوجی دستے کی واپسی کو ایک سال ہوا ہے۔امریکی کانگریس میں مسودہ قانون پیش کرتے ہوئے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ایرل بلومنر نے ایک بیان میں کہا ‘ ہمیں اپنے وعدوں کو ضرور پورا کرنا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکی فورسز کی مدد کرنے والے افغانیوں کو محفوظ اور قانونی پناہ دی جائے۔ ‘ ان کے علاوہ تین ریپبلکن ارکان سینیٹ لنڈسے گراہم سمیت تین ڈیموکریٹ سینٹرز نے بھی اس مسودہ کو مل کر پیش کیا ہے۔

اس مسودہ قانوں کو ‘افغانستان ایڈجسٹمنٹ ایکٹ’ کا نام دیا گیا ہے۔دونوں جماعتوں کے ارکان کی طرف سے سینیٹ میں اس مسودہ قانون کی منظوری کا امکان بڑھ گیا ہے، بصورت دیگر ڈیموکریٹس کے لیے اسے منظور کرانے میں مشکل ہو سکتی تھی۔ کانگریس سے متعلق ایک اہم ذریعے نے کہا ‘ اس مسودہ قانون کو امیگریشن مخالف ری پبلکنز کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ‘واضح رہے 76000 افغانی شہریوں نے طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد پچھلے سال امریکہ میں پناہ لی اور یہ بڑی مشکل سے امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انہیں عارضی امیگریشن کے طور دوسال کے لیے سہولت دی گئی تھی۔ اب اس قانون کی منظوری کے نتیجے میں ان افغانیوں میں سے جو چاہیں گے مستقل امریکی شہریت کے لیے بھی اپلائی کر سکیں گے۔