Causes and effects of terrorism in Pakistan

شاہد ندیم احمد(پاکستان)
پاک سرزمین ایک بار پھر دہشت گردوںکے نشانے پر ہے، دہشت گرد وں کوجہاں موقع ملتا ہے، دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے سے نہیں چوکتے ہیں یہ افغانستان ہی ہے جس کی سرزمین سے دہشت گرد آکر پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کر کے واپس پناہ گاہوں میں چلے جاتے ہیں،گزشتہ ماہ تنظیم کے ذمہ داران سے افغانستان میں پاکستانی حکام کے مذاکرات کے باعث جنگ بندی ہوگئی تھی،لیکن تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) نے امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری اور کمانڈر عمر خالد خراسانی کی ہلاکت کے بعد ایک بار پھر دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں،پا کستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مستعد اور کوشاں ہیں، انہوں نے سرزمین وطن کی دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں اور بہت حد تک کامیابی بھی حاصل کرلی ہیں، لیکن ایک بار پھر دہشت گردوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے ،سیکورٹی ادارے جب تک ہشت گردوں کے ٹھکانوں کا مکمل صفایا کرنے کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کو تہہ تیغ نہیں کرتے علاقائی امن و سلامتی کی ضمانت نہیں مل سکے گی۔

اس تناظر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا بجا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے کہ جو خطے کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس سے نمٹنے کے لئے مل کر موثر ردعمل دینے کی ضرورت ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کہ افواج پاکستان نے دنیا کے دشوار ترین محاذ پر نہ صرف دہشت گردی کے خلاف نہ صرف جنگ لڑی ہے، بلکہ پاکستانی قوم نے 80ارب ڈالر سے زائد مالی نقصان برداشت کرنے کے ساتھ 40ہزار جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے،یہ افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کا ہی ثمر ہے کہ ارض پاک سے دہشت گردوں کا صفایا ہو چکا ہے،مگر اس بات سے مفر نہیں کہ پاکستان جب اپنی سرحدوں پر دہشت گردوں کے خلاف برسر پیکار تھا، اس وقت افغان سرزمین پر مزیددہشت گردوں کو پناہ مل رہی تھی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی سے عاجز آکر اپنی سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا،لیکن اب ایک بار پھر دہشت گرد افغان سرزمین پر منظم ہو رہے ہیں اور افغانستان کے ساتھ پاکستان پر بھی حملے کر رہے ہیں۔

یہ افسوسناک امر ہے کہ ہر بار بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی کے سرے افغانستان سے جا ملتے ہیں، پاکستان بارہا افغان حکومت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا آرہا ہے، لیکن افغان حکومت نے ابھی تک ایسا کوئی بھی قدم نہیں اٹھایا ہے کہ جس سے دہشت گردوں کو پا کستان سر زمین میں داخل ہو نے سے روکا گیا ہے ، بلوچستان اور کے پی کے میںدہشت گردی کا ایک بار پھرسر اٹھانا اس کا واضح ثبوت ہے کہ افغان حکام اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کروا نے کے باوجود کا لعدم تنظیموں کی کاروائیاں روکنے میں ناکام نظر آرہے ہیں ،اس کی ایک بڑی وجہ عالمی برادری کا افغان حکومت سے عدم تعاون ہے ، اس جانب ہی آرمی چیف نے عالمی توجہ دلائی ہے کہ بہتر ہو گا کہ عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف موثر اور مشترکہ حکمت عملی طے کرے، تاکہ دنیا دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ رہ سکے۔

دنیا نے افغانستان کو جب بھی تنہاچھوڑا،پا کستان نے ہمیشہ افغانستان کا ساتھ دیا ہے،اس بار بھی پاکستان طالبان حکومت کے قیام کے روز ِ اول سے ہی ا سکے ساتھ نہ صرف تعاون کررہا ہے ،بلکہ مشکل ترین حالات میں اسے
امداد فراہم کررہاہے ،تاہم یہ طالبان حکومت کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے وعدہ کے مطابق اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف تخریب کاری کیلئے ہرگزاستعمال نہ ہونے دے اور خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کا ساتھ دے،ہم سمجھتے ہیں کہ ایمن الظواہری اور عمر خالد خراسانی کی ہلاکت سے جہاں دہشت گرد تنظیموں کو کافی دھچکا لگا اوران کیلئے مشکلات پیدا ہو ئی ہیں ،وہیںقیام امن کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے، اس وقت امن ہی پاکستان کی اہم ضرورت ہے ،اگرتحریک طالبان سمیت بلوچستان کے عسکریت پسند بھی ریاست کی رٹ تسلیم کرتے ہیں تو فی الفور عام معافی دے کر آگے بڑھنا ہوگا ،کیوں کہ پرُامن پاکستان ہی خوشحال پا کستان کی ضمانت ہے۔
ای میل:sadaaysehar@gmail.com