Independence Day: Pakistan opposition parties celebrate diamond jubilee as black day

اسلام آباد: پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کے درمیان اس سال کے شروع میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد ملک انتشار سے گزر رہا ہے۔ آزادی کے 75 سال بعد پاکستان ‘برانڈ آف بحران’ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لوگ ایک عرصے سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ طالبان اور دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) جیسی خونخوار دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی نے اس کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور پاکستانی سکیورٹی ایجنسیاں اسے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ملک بھر میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔اس تناظر میں آج سیاسی کارکنوں اور اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے عدم اطمینان کا اظہار کرنے کے لیے پاکستان کے 75ویں یوم آزادی کو ‘یوم سیاہ’ کے طور پر منایا۔

اس دوران لوگ آزادی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے لاہور ہاکی سٹیڈیم میںحقیقی آزادی شو کے لیے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) نے نظریہ پاکستان کانفرنس کے نام سے لیاقت باغ سے فیض آباد راولپنڈی تک ریلی نکالی۔عمران خان نے پاکستان بھر سے اپنے کارکنوں کو اپنے لاہور جلسے میں شرکت کی دعوت دی۔عمران خان کا خطاب سننے کے لیے پی ٹی آئی کے حامیوں نے کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں ا سکرینیں لگا دیں۔ٹی ایل پی نے نظریہ پاکستان مارچ اور لیاقت باغ سے فیض آباد انٹر چینج تک کانفرنس کا بھی اہتمام کیا۔

اس کے لیے ٹی ایل پی کے کارکنوں نے راولپنڈی میں فیض آباد اور مری روڈ بلاک کر دی۔ دونوں اطراف سے جلوسوں کی وجہ سے لاہور سمیت دیگر شہروں میں دن بھر سڑکیں بلاک رہیں۔ ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا اور لوگ گھنٹوں جام میں پھنسے رہے۔عمران خان نے 75 واں یوم آزادی منانے اور حقیقی آزادی پر زور دینے کے لیے لاہور میں زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پارٹی کے دیگر رہنماو¿ں پر کرپشن پر تنقید کی اور ان پر امریکہ کی غلامی کا الزام لگایا۔ لیکن ساتھ ہی عمران خان نے واضح کیا کہ وہ امریکہ مخالف نہیں ہیں۔ وہ امریکہ سے دوستی چاہتے ہیں۔ اس سے قبل عمران خان نے امریکہ پر ان کے خلاف سازش کا الزام لگایا تھا۔