Maharaja Ranjit Singh's haveli in Pakistan collapses

پشاور: پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں 12 اگست کو ہونے والی شدید بارشوں کے باعث مہاراجہ رنجیت سنگھ کی آبائی حویلی کا ایک بڑا حصہ، جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، گر گیا۔ اس سے شیر پنجاب کی میراث کے تئیں حکومت پاکستان کی بے حسی ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم چند روز قبل ضلع کے اسسٹنٹ کمشنر نے متعلقہ محکمے کے اہلکاروں کے ہمراہ مذکورہ حویلی کا دورہ کیا اور اسے مکمل طور پر محفوظ قرار دیا تھا اور اسے سیاحوں اور خصوصا ہندوستان کے سکھوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا گیا۔پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے اس عمارت کو محفوظ ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا ہے، لیکن اہلکار شاید ہی کبھی اس کو دیکھنے جاتے ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے متعدد بار رقم مختص کی گئی ہے لیکن اس کی تزئین و آرائش کے لیے استعمال نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ حویلی کے اطراف کا پورا علاقہ غیر قانونی دکانوں سے مچھلی منڈی میں تبدیل ہو چکا ہے۔قابل غور ہے کہ پاکستان نہ صرف سلامتی کے محاذوں پر ہندوستان کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر رہا ہے بلکہ ہندوستانی ثقافت سے وابستہ ثقافتی ورثے کو بھی نظر انداز کر رہا ہے۔ شیر پنجاب مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تاریخی ورثے کی حالت زار اس کی زندہ مثال ہے۔ لاہور میں مہاراجہ کی تاریخی بارہ دری پہلے ہی کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی آبائی حویلی کا ایک بڑا حصہ بھی منہدم ہو گیا ہے۔معلومات کے مطابق گوجرانوالہ کی حویلی کی نچلی منزل (جس میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پیدائش ہوئی تھی) میں ملک کی تقسیم کے بعد کئی سال تک پولیس تھانہ چلتا رہا۔ اسی وقت حویلی کے عقب میں 9-10 بیت الخلا بنائے گئے تھے۔ یوں تو کچھ وقت پہلے تھانے کو حویلی سے ہٹایا گیا تھا لیکن خراب بیت الخلا اور ان کے باہر پڑی گندگی نہیں ہٹائی گئی۔ اس کے بعد آس پاس کے گھروں اور دکانوں کے لوگوں نے یہاں کچرا پھینکنا شروع کردیا۔ گوجرانوالہ کی پرانی سبزی منڈی میں موجود اس حویلی میں وہ چٹان آج بھی موجود ہے جس پر انگریزی اور اردو میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پیدائش 13 نومبر 1780 کندہ ہے۔