EU says Iran's response to nuclear deal plan is constructive

جنیوا:(اے یو ایس ) یورپی یونین نے 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی کے مجوزہ خاکے پر ایران کے ردعمل کو تعمیری قراردیا ہے اور کہا ہے کہ تنظیم طویل ترمذاکرات پر امریکا سے مشاورت کر رہی ہے۔یہ تبصرے اس بات کی پہلی مثبت علامت ہیں کہ تہران کی جانب سے پیر کی رات یورپی یونین کو باضابطہ طور پر پیش کردہ مو¿قف شاید مذاکرات میں تعطل کو دورکرنے کا سبب بنے گا۔اس عہدہ دار نے اس معاملے کی حساسیت کی وجہ سے اپنا نام ظاہرنہیں کیا اور کہا کہ ایران کے ردعمل کے ابھی مطالعہ کی ضرورت ہے اور جوہری مذاکرات کے دیگر فریق،جن میں امریکا ، چین اور روس شامل ہیں،اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔یورپی یونین کے ثالثوں نے گذشتہ ہفتے تاریخی جوہری معاہدے کو ختم کرنے کی حتمی تجویز پیش کی تھی۔ یورپی بلاک نے اس متن کو ایک معاہدے کو بچانے کی آخری بقیہ امیدقراردیا ہے جس کا مقصد تہران کی جوہری سرگرمی کو اس کے توانائی کے شعبے سمیت پابندیوں کے خاتمے کے بدل میں محدود کرنا ہے۔ لیکن اعلیٰ ایرانی حکام کے تبصروں سے پتا چلتا ہے کہ وہ مجوزہ سمجھوتے میں مزید تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔

نیز یہ کہاجارہا ہے کہ ایران سے اضافی تیل توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت سے متاثرہونے والی عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرسکتا ہے۔منگل کے روز لندن میں برینٹ آئل کے سودے 2.8 فی صد تک گر کر چھے ماہ کی کم ترین سطح پر تجارت کر رہے ہیں۔یورپی یونین کی ترجمان برائے خارجہ امورو سلامتی نبیلہ مصرعلی نے منگل کے روز جوہری معاہدے کا باضابطہ مخفف استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس کا مطالعہ کررہے ہیں اور آگے کے راستے میں جے سی پی او اے کے دیگر شرکا اور امریکا سے مشاورت کر رہے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ہمیں گذشتہ شام ایرانی ردعمل موصول ہوا ہے۔البتہ انھوں نے اگلے اقدامات کے وقت کے بارے میں قیاس آرائی کرنے سے انکار کردیا۔ نبیلہ علی نے ایران کے ردعمل کے بارے میں کہا کہ میں ایک بار پھر اس بات کا اصرار کرتی ہوںکہ یہ گذشتہ شب ہی سامنے آیا ہے۔ آگے بڑھنے کا راستہ یہ ہے کہ تمام شرکا اس پرغور کریں ، امریکا اس پر غور کرے۔ایرانی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق منگل کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے حکومتی ترجمان علی بہادری جاہ رومی نے یورپی یونین کے بارے میں ایران کے ردعمل کے مندرجات بیان کرنے سے انکارکردیا۔

سرکاری ادارے نورنیوز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یورپی یونین کی تجویز میں واضح طور پرتین اہم عوامل سے متعلق ایرانی خدشات کو حل نہیں کیا گیا ہے۔نورنیوز نے ایک الگ ٹویٹ میں کہا کہ سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی نے منگل کی شام تہران میں قانون سازوں اورسینیر ایرانی جوہری مذاکرات کاروں سے ملاقات کی تاکہ انھیں تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکے۔ایران کے ویانا اور دوسرے مقامات پر عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات گذشتہ قریباً 18 ماہ سے جاری ہیں مگر ابھی تک فریقین میں کوئی معاہدہ نہیں طے پاسکا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے امریکاسے مطالبہ کیا تھا کہ وہ معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ نقطہ نظراور لچک کا مظاہرہ کرے۔انھوں نے پیرکو تہران میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے واضح طور پرامریکاکو بتایا ہے کہ ہم معاہدے کے اعلان کے مرحلے میں داخل ہونے کوتیار ہیں اور اگر ہمارے تازہ نکات پورے ہوجاتے ہیں تو حتمی نتائج پر ویانا میں وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوگا“۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہاکہ بائیڈن انتظامیہ اپنے خیالات یورپی یونین کے ساتھ نجی طورپرشیئر کرے گی۔تاہم ہم ایرانی وزیرخارجہ کے بنیادی نکتے سے متفق ہیں اور وہ یہ کہ جس معاملے پر تبادلہ خیال ہو سکتا ہے اس پر پہلے ہی گفتگو ہوچکی ہے۔