Iran never backs down from red lines in nuke talks: security official

تہران:(اے یوایس) ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کی سرخ لکیروں کو پیچھے نہیں ہٹایا جائے گا چاہے جوہری معاہدہ طے پا جائے یا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں یورپی تجویز کا واضح جواب نہیں دیا گیا۔ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ اسے یورپی تجویز پر ایرانی ردعمل موصول ہوا ہے اور وہ اس کا مطالعہ کر رہا ہے۔یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ’سی این این’ نے اطلاع دی ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے کوئی حقیقی حل نہیں نکل سکا ہے۔’سی این این‘ نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر کوئی امریکی صدر معاہدے سے دستبردار ہوتا ہے تو ایران معاوضے کا مطالبہ کرے گا۔

سفارتی ذریعے نے مزید کہا کہ ایران کی طرف سے مانگی گئی ضمانتیں 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ویانا مذاکرات میں روسی مندوب نے نام لیے بغیر اشارہ دیا تھا کہ ایران نے اس شرط پر معاہدہ کرنے کے لیے اپنی رضامندی کی تصدیق کی ہے کہ 3 مطالبات تسلیم کیے جائیں گے قبل ازیں ایرانی مذاکراتی وفد کے مشیر محمد مرندی نے اعلان کیا کہ ہمارے پاس 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی طرف واپسی کا ایک بہترین موقع ہے۔ مرندی نے کہا کہ بقایا مسائل حل ہو چکے ہیں اور جوہری معاہدے کی طرف واپسی کا بہت زیادہ امکان ہے۔ایران انٹرنیشنل نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ بظاہر ایران نے ضمانتوں کے معاہدے کے حوالے سے بقایا مسائل کے مجوزہ حل کو قبول کر لیا ہے لیکن وہ اب بھی اقتصادی ضمانتیں حاصل کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔