Republican lawmakers threaten to investigate FBI actions

واشنگٹن:(اے یو ایس ) ایسے میں جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی کانگریس میں گزشتہ ہفتے فلوریڈا میں ان کے گھر کی ایف بی آئی کی جانب سے تلاشی کے معاملے پر تحقیقات کے لئے زمین ہموار کر رہے ہیں، سابق صدر نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جانا چاہیے۔ساتھ ہی کسی ثبوت کے بغیر ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران اصرار کیا کہ ہو سکتا ہے کہ فیڈرل ایجنٹس نے خود ان کے گھر میں ثبوت رکھے ہوں۔ریاست فلوریڈا کے پر فضا مقام مار-آ-لاگو میں ٹرمپ کی رہائش کی گزشتہ ہفتے ایف بی آئی کی جانب سے تلاشی کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں سابق صدر نے فاکس نیوز ڈیجیٹل کو بتایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ امریکہ کے ایک سابق صدر کے گھر میں گھسنے کے لیے قانون نافذ کرنے والوں کو استعمال کیا گیا ہو۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس واقع سے ملک میں ایسا شدید غصہ پایا جاتا ہے جسکی ماضی میں خطرناک دنوں کے سوا کوئی مثال نہیں ملتی۔لیکن تفصیلات کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ایف بی آئی کے ایجنٹس زبردستی ٹرمپ کے گھر میں نہیں گھسے بلکہ وہ تلاشی کے ایسے وارنٹ کے ساتھ اندر گئے جسکی منظوری ایک وفاقی جج نے اس شبہ کی بنا پر دی تھی کہ ایک جرم کا ارتکاب ہوا ہے۔

وارنٹ میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ تحقیقات کنندگان کے پاس یہ باور کرنے کا جواز موجود ہے کہ جاسوسی کے ایکٹ سمیت نیشنل سیکیورٹی انفارمیشن کو محفوظ رکھنے اور اس کی سیکیورٹی سے متعلق متعدد وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔جاسوسی سے متعلق ایکٹ کے عنوان سے تاثر ملتا ہے کہ یہ صرف جاسوسی کے معاملات سے نمٹنے کے لئے ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خفیہ دستاویزات کے کسی غیر ملکی حکومت کو فراہم کرنے کی نیت کے بغیر بھی ان کا غلط طریقے سے استعمال اس کے دائرہ کار میں شامل ہے۔ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے نمائندوں سے محکمہ انصاف سے رابطہ کرنے اور اسکے عہدیداروں کو یہ پیغام دینے کے لئے کہا ہے کہ ملک کی مدد کے لئے وہ جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، کریں گے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اب تک محکمے کی جانب سے انہیں کوئی جواب نہیں ملا ہے۔تلاشی کے بعد جاری کی جانے والی اطلاعات کے مطابق ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے ریکارڈ سے بھرے20 سے زیادہ صندوقوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس کے علاوہ انفرادی کاغذات، فوٹو گرافس اور دوسری متعلقہ چیزیں بھی اس میں شامل ہیں۔ ٹرمپ کے وکیل کو اس سامان کی جو رسید دی گئی ہے اس کے مطابق جو کاغذات اور دستاویزات تحویل میں لی گئی ہیں ان میں سے بہت سے خفیہ ہیں۔اور بعض دستاویز پر تو ٹاپ سیکیرٹ لکھا ہوا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کہ ان میں جو اطلاعات ہیں وہ ملک کی انتہائی حساس خفیہ معلومات میں شامل ہیں۔

انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ جن ایجنٹوں نے تلاشی لی۔ وہ جو کچھ بھی چاہتے وہاں رکھ سکتے تھے۔امریکی صدر کو اختیار ہے کہ وہ اپنے طور پر کاغذات کی خفیہ حیثیت کو ختم کر سکتا ہے۔ اور ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے دعوی کیا کہ دفتر چھوڑ نے سے قبل انہوں نے ان تمام کاغذات کی خفیہ حیثیت کو سرکاری طور پر ختم کردیا تھا جو ان کے ساتھ ان کی قیام گاہ پر گئے۔ لیکن اب تک سابق صدر نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے جو ان کے اس دعوے کو درست ثا بت کرتا ہو۔ادھر کیپٹل ہل پر ٹرمپ کے اتحادی اس تلاشی کے بارے میں کانگریس کی جانب سے تحقیقات کے لیے میدان ہموار کر رہے ہیں۔یہ چھاپہ اس تفتیشی کارروائی کا حصہ تھا جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سابق صدر جنوری 2021 میں اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد وائٹ ہاو¿س سے جاتے ہوئے کچھ دستاویزی ریکارڈ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔اس حوالے سے ایوان نمائیندگان کی جوڈیشیری کمیٹی کے اٹھارہ ارکان نے اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کو ایک خط بھی لکھا ہے جنہوں نے ذاتی طور پر تلاشی کے وارنٹ کی درخواست کی منظوری دی تھی۔تاہم تمام ری پبلکن قانون سازوں میں تلاشی پر رد عمل ایک جیسا نہیں ہے۔

واشنگٹن میں ڈیموکریٹس نے منصب سے سبکدوشی کے بعد حساس نوعیت کے سرکاری کاغذات اپنے پاس رکھنے کے ٹرمپ کے فیصلے اور اپنے بعض ری پبلکن ساتھیوں کی جانب سے ایف بی آئی کی کارروائی پر رد عمل کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ اور خبردار کیا ہے کہ اس طرح وہ قانون نافذ کرنے والے عہدیداروں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔اس کارروائی کے بعد گزشتہ ہفتے امریکی ریاست اوہائیو میں ایک شخص نے جو صدر کا بڑا حامی تھا ایف بی آئی کے فیلڈ آفس پر حملہ کردیا۔ جسے پولیس نے گولی مار کر ہلاک کیا۔ایوان نمائیندگان میں انٹیلی جینس پر سلیکٹ کمیٹی کے سربراہ ایڈم شف نے سی بی ایس کے فیس دی نیشن پروگرام میں کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے امریکی انٹیلی جنس اداروں سے کہا ہے کہ وہ تخمینہ لگائیں کہ ٹرمپ کے یہ کاغذات اپنے پاس رکھنے کے فیصلے سے ممکنہ طور پر ملکی سیکیورٹی کو کتنا خطرہ لاحق ہوا ہوگا۔