Several Syrian soldiers killed in 'Turkish air raids

دمشق:(اے یوایس ) ترک فوج کے لڑاکا طیاروں نے شامی فوج کے زیرانتظام ایک سرحدی چوکی پر گذشتہ روزفضائی حملہ کیا جس میں 19 افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ترکی نے یہ فضائی حملہ اپنے فوجیوں اور کردجنگجوو¿ں کے درمیان گذشتہ رات جھڑپ کے بعد اس چکی پر کیا جو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے سرحدی شہر عین العرب (کوبانی) کے نواح میں شامی حکومت کی چوکی پرترک فضائی حملے میں گیارہ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ لیکن اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ہلاک شدگان کا دمشق حکومت سے تعلق تھا یا وہ کرد فورسز سے وابستہ ہیں۔

رصدگاہ نے منگل کے روز تصدیق کی کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے صوبہ حلب کے مشرق میں واقع عین العرب کے مغربی دیہی علاقوں میں ترکی کے ساتھ سرحد پر واقع جارقلی گاو¿ں میں شامی حکومت کی فورسز کے فوجی اڈے پر بمباری کی ہے۔ترک جنگی طیاروں نے علاقے کے دیگر مقامات پر بھی بمباری کی ہے اور زخمیوں کی موجودگی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ان میں سے بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔رصدگاہ نے اس کے علاوہ دیگر ہلاک ہونے والوں کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی ہیں اور بتایا ہے کہ عین العرب شہر اور اس کے مغربی دیہی علاقوں پر ترک فورسز کی جانب سے شدید راکٹ باری کے نتیجے میں ایک بچے کی ہلاکت اوردو بچّوں اور ایک خاتون سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

ترکی نے کردفورسز کے ساتھ سرحدی علاقے میں جھڑپوں میں ایک فوجی کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ترکی کے علاقے کے اندر ایک سرحدی چوکی پر کیے گئے میزائل حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔یہ سرحدی چوکی عین العرب کے بالمقابل واقع ہے۔واضح رہے کہ ترکی اپنی سرحد پرنیم خودمختارنظام کوقومی سلامتی کے خطرے کے طورپردیکھتا ہے۔اس کا انتظام کردملیشیا کے زیرقیادت شامی جمہوری فورسز کے پاس ہے اور یہ دھڑے شام کے شمالی اورمشرقی علاقوں میں اپنا خودمختارانہ بندوبست چلارہے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردوغان نے شمالی شام میں 30 کلومیٹرطویل محفوظ علاقہ بنانے کے لیے ایک نئی دراندازی کا اعلان کررکھاہے اس کے تحت کرداکثریتی شہر عین العرب اورامریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسزکے زیر قبضہ دیگر قصبوں میں کارروائی کی جائے گی۔