Who will be the next Army chief of Pakistan

اسلام آباد: (اے یو ایس)پاکستان کا اگلا فوجی سربراہ کون ہوگا ، اس پرجلد ہی فیصلہ کیاجائے گا، موجودہ سربراہ جنرل قمر باجوہ کی مدت کار نومبر میں ختم ہورہی ہے اور نئے فوجی سربراہ کے بارے میں اگلے کچھ ہفتوں کے دوران ہی لیاجائے گا۔یہ حکومت کے لیے سب سے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک ہوگا،حکومت کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف جنرل باجوہ کے مشورہ کرنے کے بعد اس مہینے کی آخری تک اس پر فیصلہ لے گی۔وزیراعظم اس سلسلے میں اپنے اتحادی پارٹیوں کے رہنماو¿ں سے بھی مشورہ کریں گے لیکن پیپلز پارٹی نے پہلے ہی کہا کہ یہ وزیراعظم کا حق ہے کہ وہ کس کو اس اعلیٰ عہدے کے لیے نامزد کرے۔

روایت یہی ہے کہ پاکستانی فوج کی طرف سے وزیراعظم کو چار یا پانچ سینئر فوجی جنرلوں کی لسٹ بھیجی جاتی ہے تاکہ وہ ان میں سے کسی ایک کو فوجی سربراہ کے عہدے پر چنے۔ وزارت دفاع ان ناموں پر سیکورٹی کی جانچ پڑتال کرکے اور پھر وزیراعظم کے دفتر کو بھیجے جاتے ہیں، لیکن یہ عام رائے ہے کہ فوج کی طرف سے جس نام کو تجویز کیاجائے گا اسی کو وزیراعظم نامزد کریں گے۔1972کے بعد 10فوجی سربراہ رہے اور ان میں سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے پانچ کا تقرر کیا۔موجودہ فوجی سربراہ کی معیاد 2019میں ختم ہورہی ہے تھی لیکن انہیں اس وقت سروس کی معیاد تین سال بڑھادی گئی۔فوجی سربراہ کے علاوہ چیئر مین ،جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل نظیر بھی نومبر میں ریٹائرڈ ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو دوسرے 6 فوجی جنرل ہیں ان میں سے4جنرلوں کی معیاد اس کے آخر تک یا اگلے سال تک ختم ہورہی ہے۔

جن کا نام فوجی سربراہ کے لیے غورکیاجارہا ہے ان میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر چوں کہ وہ بھی 27نومبر کو اپنی معیاد پوری کررہے ہیں اس لیے یہ جنرل باجوہ پر منحصر ہے کہ وہ اس کا نام اعلیٰ عہدے کے لیے پیش کرے ، ان کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد نرا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس،لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود،لیفٹیننٹ جنرل فیض حامد اور لیفٹیننٹ محمد عامر کے نام بھی اس اعلیٰ عہدے کے لیے گشت کررہے ہیں۔فوج کا پاکستانی سیاست میں اہم رول رہا ہے اس لیے تمام سیاسی پارٹیاں یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ نیا فوجی سربراہ کون ہوگا،کیوں کہ اس سے ملک کی سیاست پر کافی اثرات پڑیں گے۔عمران خان کی پارٹی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حق میں ہے، لیکن وہ ان سب میں جونیئر ہیں۔اس کو عمران خان اور فوج میں ٹھن گئی جب فوج نے انہیں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ہٹاکر پشاور کا کورڈ کمانڈر بنایا۔