Pakistan:reconciliation neede not confrontation,

شاہد ندیم احمد (پاکستان)

ملکی سیاسی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو ایک بار پھر تنگ نظر سیاست کا دور دورہ ہے ،تحریک انصاف قیادت کے خلاف نہ صرف درجنوں مقدمات بنا ئے جارہے ہیں ،بلکہ پی ٹی آئی سے فکری ہم آہنگی رکھنے والے صحافیوں کے خلاف بھی اقدامات کیے جارہے ہیں ،سیاسی مخالفین پر بغاوت اور غداری کے الزامات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور سیاسی نوعیت کے تنازعات میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل کی جا رہی ہیں، جبکہ حکومتی قیادت خود بھی اداروں کے خلاف گاہے بگاہے توہین آمیز خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں ، اس کا سارا ریکارڈ موجود ہے، مگر آج تک ان میں سے کسی کے خلاف بھی بغاوت پر اکسانے جیسا الزام نہیں لگایا گیاہے ۔اس میں شک نہیں کہ اپنے سیاسی مفادات کیلئے ہر دور اقتدار میں پہلے ریاستی اداروں کو رگیدا گیا اور بعدازاں ایک دوسرے کے خلاف ریاستی اداروں کی حرمت اور وقارکی پامالی کے الزام میں مقدمات قائم کیے جاتے رہے ہیں ،اس دور میں بھی وہی سب کچھ کیا جارہاہے ،ایک دوسرے کو انتقامی سیاست کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، وفاق شہباز گل کے خلاف کاروائی کررہا ہے تو پنجاب حکومت مسلم لیگ( ن) قیادت کے خلاف مقدمات بنارہی ہے ،اگر وفاقی حکومت تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے خلاف کاروائی میں پر عزم دکھائی دیتی ہے تو تحریک انصاف کی پنجاب حکومت پچیس مئی کے واقعات کی آڑ میں مسلم لیگ (ن)کے درجن بھر رہنماﺅں کے خلاف مقدمات قائم کر کے گرفتاریوں کیلئے متحرک ہے ،اگر چہ صوبائی حکو مت کو ابھی تک کسی گرفتاری میں کا میامیا بی نہیں ہوئی ،مگر مقدمے کا قائم ہوجانا کاروائی کی بنیاد پیدا کر چکا ہے ،یہ طرز عمل وفاق اور صوبائی حکومت میں انتہائی درجے کی محاذ آرائی کا واضح اشارہ ہے جو کہ ملکی سلامتی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک ہے۔

یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست کے باعث وفاق اور صوبائی حکومت آمنے سامنے آگئے ہیں،اس سے قبل سیاسی اختلافات کے باوجود کبھی وفاق اور صوبے یوں مد مقابل نہیں آئے تھے ،سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے کا ہو نا غیر فطری نہیں ،مگروفاق اور صوبے میں ایسا ٹکڑاﺅ انتہائی تشویش ناک ہے اور یہ سب کچھ ایسے حالات میں ہو رہا ہے کہ جب ملک کا کم و پیش نصف حصہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا کررہا ہے ،وفاق اور صوبائی حکومت سیلاب متا ثرین کی مدد کر نے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی رسہ کشی میں مصروف ہے ،دونوں جانب سے زور اس پر ہے کہ کون اپنے مخالف کو زیادہ زک پہنچاتا ہے ،مگر اس پنجہ آزمائے کا نقصان کسی سیاسی جماعت کو نہیں ،بلکہ ملک و قوم کو ہورہا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ حکومتی اکابرین اور اپوزیشن قائدین اپنے بیانات میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی پاسداری کی باتیں تو بہت کرتے ہیں ،مگر ان بیانات اور اعلانات پراصابت نہیں کر پاتے ہیں، پاکستان ایک وفاقی پارلیمانی نظام کے تحت قائم ہے اور تمام صوبے اسکی اکائیاں ہیں، پاکستان کی سلامتی ان سب اکائیوں اور وفاق کے درمیان بہترین تعلقات کار سے مشروط ہے،اگرکوئی ایک صوبہ بھی وفاق سے بغاوت کرتا ہے یا اسکے احکامات و ہدایات سے روگردانی کرتا ہے تو اس سے وفاق کو ہی نقصان نہیں پہنچتا،بلکہ اس کے اثرات قومی سلامتی پر بھی پڑتے ہیں،تحریک انصاف کے رہنماءشہبازگل کیخلاف وفاقی حکومت نے جو مقدمات قائم کیے ہیں‘ ان کیخلاف عدالت میں بات کی جا سکتی ہے ،محض جذبات کی رو میں بہہ کر ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی کرنا ، ایک دوسرے کو دشنام دینا اور سرکاری اداروں کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنا بالکل درست عمل نہیں ہے،اس کے باوجود ریاستی اداروں کی آڑ میں اپنی انتقامی سیاست کی پیاس بوجھائی جارہی ہے۔

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ حکومت کا اپنا وقا ر واحترام ہوتا ہے، لیکن ہمیں اس بات کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ احترام ہمیشہ اپنے عمل اور طرزِ عمل سے ملتا ہے، جو ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا تر ہو‘ دوسرے لفظوں میں اس میں سے امتیازی سلوک کی بو نہیں آنی چاہئے،لیکن جب حکومتی ادارے کسی ایک سیاستدان کے خلاف پروپیگنڈا کی نیت سے الزام تراشی میں مصروف ہو جائیں گے تو عام شہری اسے شک بھر نظروں سے دیکھنے لگتا ہے ، اس لئے دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ فریقین ہوش کے ناخن لیں اور تمام معاملات آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کریں، اگراب بھی ہماری قومی قیادت اپنے سیاسی، ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگے رہے اور انتقامی سیاست کی روش ترک نہ کی تو اس کا نقصان بحیثیت قوم ہم سب کو بھگتنا پڑے گا، اس حوالے سے ریاست کی مقتدرہ پر بھی زمہ داری عائد ہو تی ہے کہ خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے بحرانی کیفیت ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، کیو نکہ اس وقت ملک کے حالات کسی بھی طور پر سیاسی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ،بلکہ حالات و معاملات تحمل و برداشت اور افہام و تفہیم کے متقاضی ہیں۔