Malaysia's top court upholds 12-year jail sentence for Najib

کوالالمپور:(اے یو ایس ) ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کی رہائش گاہ سے،جو دارالحکومت کے پوش علاقے میں ایک عالی شان مینشن ہے، اس جیل تک کا سفر ،جہاں اب ان کو سزا کاٹنی ہو گی، یوں تو صرف ایک ہی گھنٹے کا ہے لیکن آسائشوں کی مناسبت سے ان دونوں جگہوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو ملک کی عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں ان کی اپیل خارج ہونے کے بعد جیل بھجوانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ 12 سال کی سزا کاٹیں۔69 سالہ نجیب رزاق پر سرکاری فنڈ میں کرپشن کرنے کا الزام تھا جس پر جولائی 2020 میں سزا سنائی گئی۔ تاہم نجیب رزاق نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی اور وہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔

عدالت نے حالیہ فیصلے میں ان کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا کہ ان کی سزا میں کچھ تاخیر کی جائے۔ نجیب رزاق اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کرتے ہیں۔2020 میں عدالت نے ان پر عائد سات الزامات، جو تقریبا نو عشاریہ چار ملین امریکی ڈالر کے غبن کے گرد گھومتے ہیں جو ان کے اکاوئنٹ میں ٹرانسفر ہوئے، کو درست قرار دیتے ہوئے ان کو سزا سنائی تھی۔عدالت نے ان کو 12 سال قید کی سزا اور تقریبا 47 ملین امریکی ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا۔ان کی دفاعی ٹیم نے موقف اختیار کیا تھا کہ نجیب رزاق کا ماننا تھا کہ ان کے اکاوئنٹ میں آنے والا پیسہ ایک سعودی شاہی خاندان کی جانب سے عطیہ ہے ناکہ سرکاری فنڈ سے خرد برد کی گئی رقم۔ان کے دفاع میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کو معاشی مشیروں نے گمراہ کیا خصوصا مفرور جھو لاو¿ نے، جن پر امریکہ اور ملائیشیا میں مقدمات درج ہیں، اور جو خود پر عائد الزامات کو بھی جھوٹا قرار دیتے ہیں۔