Pakistan flood: nobody ready to save people

شاہد ندیم احمد(پاکستان)

ملک بھر میں غیر معمولی بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب میںانسان، مال مویشی، گھروں کاسامان، ہر شے بہہ گئی ہے،سیلابی ریلے گاﺅں کے گاﺅں ایسے بہا کرلے گئے ہیں کہ اب وہاں ان کانام ونشاں بھی نہیں ہے ،اس سیلاب سے جومردوخواتین،بچے ، بوڑھے بڑی مشکل سے بچنے میں کا میاب رہے ،وہ بے یارومددگار کھلے آسمان تلے پڑے ہیں، سیلاب متاثرین کے پاس رہنے کے لئے ٹینٹ ہیں نہ کھانے پینے کا کوئی سامان ہے ،اس بے سرو سامانی کے حال میںمعصوم بچے بھوک اور پیاس سے بلک رہے ہیں،اگر اس کیفیت میںکوئی ظالم بھی ان سیلاب زدگان کو دیکھے تواسے رحم آجائے اور بلاتاخیر ان کی مدد کیلئے بھر پور کوشش کرے گا ،لیکن ہمارے سارے نیرو اپنی اپنی بانسریاںبجا جارہے ہیں،حکومت شہباز گل اور عمران خان کے چکر سے ہی نکل نہیں رہی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں دونوں کی مقبولیت میں اضافے کے لیے اس قدر کوشاں ہیں کہ انہیں سیلاب میں ڈوبتے لوگوں کو بچانے کی فرصت ہی نہیں ہے۔

بے شک خدائی حکمت اور قدرت سے مقابلہ کسی انسان یا ادارے کے بس میں نہیں، لیکن اللہ تعالی نے انسان کو عقل‘ فہم اور شعور بھی دیاہے کہ جو ہر قسم کی آزمائش میں سرخرو ہونے کیلئے رہنمائی مہیا کرتا ہے، مون سون کی بارشیں‘ سیلاب اور ندی نالوں میں آنیوالی طغیانیاں کوئی پہلی بار نہیں آئی ہیں ،یہ سب کچھ ہر سال ہی دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن اس شدت کسی سال کم اور کسی سال زیادہ ہوجاتی ہے، اس قسم کی آفات سے محفوظ رہنے کیلئے مہذب اور ترقی یافتہ قومیں باقاعدہ منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار کرتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں شروع دن سے ڈنگ ٹپاﺅپالیسی ہی پر ہی گزارا کیا جاتا رہا ہے۔اس میں شک نہیں کہ اس بار غیر معمولی بارشوں کے سبب آنے والے سیلاب کی شدت بہت زیادہ ہے ،لیکن اس سیلابی آفت نے حکومت سمیت تمادم سرکاری اداروں کی کار کردگی کے پول کھول کر رکھ دیئے ہیں ، حکومت اور ادارے بارشوں کے ساتھ سیلاب سے بڑی حد تک آگاہ تھے ،مگر انہوں نے کو ئی منصوبہ بندی کی نہ کوئی ایسے اقدامات کیے گئے کہ جن باعث کم سے کم انسانی قیمتی جانوں کو ہی بچایا جاسکے ،حکومت زیادہ بارشوں پر فکر مند ہوئی نہ سیلاب آنے پر متحرک نظر آئی ،حکومت کی ترجیحات میں سیلاب میں مرتے عوام کی بجائے شہباز گل اور عمران خان کے خلاف مقدمات کی پیروی زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے ۔

یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے کہ سیلاب میں بہتے بچوں کی مدد کی پکار کسی نے سنی نہ اپنے بچوں کے الاشے ڈھونڈتے والد کی آہو بکا پر کسی نے تو جہ دی ، ایک طرف معصوم بچہ بارش کے طوفان میںاذان دیتا رہا تو دوسر جانب ایک ماںہاتھ اُٹھا کر روتے ہوئے فریاد کرتی رہی ،مگر حکمرانوں کے کان پر کوئی جوںرینگی نہ ان سنگ دل پر کوئی اثر ہوا ، ملک بھر میں جب سیلاب کے باعث 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ، 313 بچوں سمیت 9 سو سے زائد افراد لقمہ اجل بنے اور 1300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تو حکمران حرکت میں آئے اور اب اعلانات کیے جارہے ہیں کہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا ۔حکومت متاثرین کے نقصان کا کیا ازالہ کرے گی ،کیا مرے ہوئے لوگوں کو واپس لا سکتی ہے ،حکومت ہر با چند روپے دیے کر مرے ہوئے لوگوں کے لواحقین کا مزاق اُڑاتی ہے ،حکومت کبھی کوشش نہیں کرتی ہے کہ آئندہ انہیں بارشوں اور سیلابوں سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کیے جائیں ،حکومت نے مختلف آفات سے نمٹنے کیلئے بظاہر (این ڈی ایم اے) کے نام سے ادارہ ضرور قائم کر رکھا ہے اور اس کے صوبوں میں بھی دفاتر موجود ہیں ،لیکن یہ ادارے اس وقت ہی حرکت میں آتے ہیں کہ جب پانی سروں سے گزر چکا ہوتا ہے ،ایک بار پھر غریب سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے اور ادارے متحرک ہو چکے ہیں ،میڈیا پر ان سب کی کار گزاری دکھائی جارہی ہے ،ایک طرف امدادی سامان ہر جگہ پہچانے کی یقین دہانیاں کرائی جارہی ہیں تو دوسری جانب متاثرین سیلاب امداد کے بغیر آہو بکا کرتے نظر آرہے ہیں ۔

کیا یہ فریاد کرتے اور مدد کیلئے پکارتے سیلاب زدگان پاکستانی نہیں ہیں ،کیا حکمران اور اپوزیشن قیادت ان سے ووٹ نہیں لیتے رہے اور آئندہ ان سے ووٹ نہیں مانگیں گے،موجودہ حکمران سیلاب زدگان کی مدد کرنے کی بجائے عوام سے ہی مدد مانگنے لگے ہیں ،ایسالگتا ہے کہ جیسے سب سیاستدان اور نام نہاد رہنما سب ہی غریب ہوچکے ہیں، الیکشن پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والوں کے پاس ان بے آسرا لوگوں کو دینے کیلئے کچھ بھی نہیں رہاہے ،یہ پارلیمان میں بیٹھے بڑے بڑے جاگیرداروں کے پاس شاید کچھ بھی نہیں تو سیلاب متاثرین کوکھانے کے لئے کیا د یں گے ،یہ بڑے بڑے صنعتکار اپنے کروڑوں، اربوں ٹیکس بچانے کیلئے تو ہر جائز ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں لیکن ان بے یارومددگار سیلاب زدگان کیلئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ، یہ سب لوٹنے والے ہیں ،سیلاب زدگان کو بچانے والا کوئی نہیں،سیلاب زدگان کی پہلے بھی افواج پا کستان ہی بچاتے رہے ،اس بار بھی وہی مدد کررہے ہیں ،پاک افواج نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کر کے اشرافیہ کو شرم دلائی ہے ،مگر انہیں شرم کہاں آتی ہے۔