Afghan women leaders conference held in Istanbul

استنبول: ترکی کے شہر استنبول میں ”افغان ویمن لیڈرز‘ کے عنوان سے جاری ایک چار روزہ اجتماع میں افغانستان کی حقوق نسواں کی کارکنوں اور بین الاقوامی حقوق انسانی تنظیموں کی ارکان نے دنیا کے تمام ممالک سے پر ور اپیل کی ہے کہ وہ افغان خواتین و لڑکیوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔انہوں نے افغانستان میں خواتین کو ملزمتوں اور تعلیم سے دور رکھنے پر تشویش کا اظہار کیا اور بین الاقوامی برادری سے کہا کہ خواتین کے حقوق کے لیے جدو جہد کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں سے تعان کریں۔

خواتین کے حقوق کی کارکن ثریا پیکان نے کہا کہ اگر یہاں کیے گئے مطالبات کو عالمی برادری، بین الاقوامی اداروں اور اداروں اور متعلقہ ممالک کے سامنے پیش کیا جائے اور یہ پیغام طالبان تک بھی پہنچایا جائے۔ اور اگر انہیں تسلیم نہ کیا گیا تو خواتین اپنی لڑائی اور احتجاج جاری رکھیں گی۔دریں اثنا افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کے لیے امریکی خصوصی ایلچی، رینا امیری نے مسلم اکثریتی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے لیے سب سے بلند آواز بنیں۔

اوکاز/سعودی گزٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے امیری نے کہا کہ سعودی عرب کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کے اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے میں پیش پیش رہے کیونکہ سعودی عرب وہ ملک ہے جس پر عالم اسلام کی نظر ٹکی رہتی ہے اور اس کی تقلید کرتے ہیں ۔انہوںنے مزیدکہا کہ میں ایک مسلمان ہوں اور اپنے تجربے ار تاریخ سے مجھے علم ہوا ہے کہ اسلام ایسا پہلا مذہب ہے جس نے خواتین کو ان کے حقوق دیے ہیں۔میںمسلم ممالک سے چاہتی ہون کہ وہ طالبان سے بات کریں اور ان کے اس اقدام پر انہیں ٹوکیں اور ان سے کہیں کہ ایسا نہ کیا جائے ۔