Arshdeep Singh has the potential to become the leading fast bowler

نئی دہلی: متحدہ عرب امارات کی ریاست دوبئی کے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستان کے خلاف ایشیا کپ میں طوفانی بولنگ کا مظاہرہ کر کے دو وکٹ کے ساتھ ٹورنامنٹ میں اپنی موجودگی کا ڈنکا بجانے والے ہندوستان کے نوجوان سکھ فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ کے بارے میں اب عام خیال یہ ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ عنقریب پنجاب کا یہ نوجوان کرکٹر بہت جلد ہندستان کا بہترین لیفٹ آرم فاسٹ بولر کا اعزاز حاصل کر لے گا۔

ٹی20میں انگلینڈ کے خلاف ہندوستان کے لیے ڈیبو کرکے ارشدیپ افق کرکٹ پر نمودار ہوئے لیکن اصل میں یہ اس وقت جگمگائے جب انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ہر میچ میں حریف ٹیم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اپنی عمدہ فاسٹ اور میچ وننگ بولنگ کی بدولت مین آف دی سریز کا اعزاز پا یا۔

ارشدیپ نے ویسٹ انڈیز میں پانچ ٹی ٹونٹی میچوں میں6.58کی اوسط سے سات وکٹ لیے۔انہوں نے نہ صرف پاور پلے میں حریف کھلاڑیوں کے چھکے چھڑائے بلکہ ڈیتھ اووروں میں بھی نہایت کفایتی بولنگ کی ۔یہی انداز انہوں نے دوبئی میں پاکستان کے خلاف بھی برقرار رکھا اور اپنے کوٹے کے چار اووروں میں3.5اوور بولنگ کی اور دو وکٹ لیے جن میں آخری وکٹ اننگز کے آخری اوور کی پانچویں گیند پر شاہنواز دھانی بلے باز کا تھا جو محض6گیندوں پر 16رنز بنا کر پاکستان کو محفوظ پوزیشن میں لے جانے میں لگے تھے۔

اگر اس اوور میں ارشدیپ نے دھانی کو آؤٹ نہ کیا ہوتا تو دھانی جو نہایت جارحانہ انداز اختیار کیے تھے اور دو چھکے لگا چکے تھے اگر ایک چھکا اور لگا دیتے تو ٹیم انڈیا کے لیے جیت بڑی مشکل ہو جاتی کیونکہ تب ٹیم انڈیا کو آخری اوور میں7نہیں 13اور آخری تین گیندوں پر 6کے بجائے12رنز درکار ہوتے جو شاید پانڈیا بھی شاید بنانے میں ناکام ہوجاتے کیونکہ وہ آخری اوور بھی پاکستان کا یک کامیاب بولر محمد نواز کر رہا تھا۔ اگر ارشدیپ کی یہی کارکردگی آئندہ میچوں میں بھی جاری رہی تو کوئی عجب نہیںکہ وہ دوبئی میں بھی مین آف دی سریز کے اعزاز کے ساتھ ٹورنامنٹ لوٹ لیں۔