Russia pulls its ‘Syrian’ S-300 missile battery

تل ابیب:(اے یو ایس ) ایک اسرائیلی خلائی انٹیلی جنس کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ روس نے یوکرین میں جنگ کی وجہ سے شام سے جدید S-300 فضائی دفاعی نظام واپس لے لیا ہے۔امیج سیٹ انٹرنیشنل (آئی ایس آئی) نے سیٹلائٹ تصاویر جاری کیں جس میں دکھایا گیا ہے کہ S-300 سسٹم جو شمال مغربی شام کے شہر مصیاف کے قریب برسوں سے موجود حالیہ ہفتوں میں ختم کر دیا گیا ہے۔اس سسٹم کے ریڈار کو مغربی شام میں روسی حمیمیم فضائی اڈے پر منتقل کیا گیا تھا، جبکہ S-300 بیٹری کو طرطوس کی بندرگاہ پر منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے اسے بحیرہ اسود کی بندرگاہ نوورو سیسک جانے والے روسی جہاز پر لاد دیا گیا تھا۔

کمپنی نے کہا کہ توقع ہے کہ جہاز اگلے جمعہ کو روسی بندرگاہی شہر میں اترے گا۔ یہ بیٹریاں روس کو واپس کر دی گئیں تاکہ اس کے فضائی دفاع کو مضبوط کیا جا سکے، جنہیں مبینہ طور پر یوکرین کے ساتھ لڑائی کے دوران نقصان پہنچا تھا۔گذشتہ مئی میں شام میں روسی افواج نے مصیاف کے علاقے میں اہداف پر اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کے جواب میں اس جدید نظام کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی طیاروں پر فائرنگ کی تھی۔ یہ واقعہ 13 مئی کو ہونے والے حملے کے ایک ہفتے بعد رپورٹ کیا گیا تھا۔

بعد ازاں گذشتہ جولائی میں اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے اس کی تصدیق کی تھی۔ یہ واقعہ شام پر اسرائیلی فضائیہ کے خلاف S-300 سسٹم کا پہلا استعمال ہے۔چونکہ شام کی S-300 بیٹریاں روسی فوج چلاتی ہیں۔ اس لیے انہیں ان کی رضامندی کے بغیر جاری نہیں کیا جا سکتا لہٰذا یہ واقعہ اسرائیل کے لیے ایک پریشان کن پیشرفت تھا، جس نے شام کے اندر سینکڑوں فضائی حملے کیے، جس میں ایرانی حمایت یافتہ ہتھیاروں کی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا۔خیال کیا جاتا ہے کہ مصیاف کے علاقے کو شام میں ایرانی فورسز اور ایران نواز ملیشیاو¿ں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور حالیہ برسوں میں اسرائیل سے منسوب حملوں میں اسے بار بار نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔