Pak Planning Minister warns of acute food shortage amid grim flood situation

اسلام آباد: پہلے سے ہی کنگال پاکستان میں شدید سیلاب کے بعد معیشت مزید بری طرح ڈگمگا گئی ۔ ایسے میں پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے بڑی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال جلد بہتر نہ ہوئی تو ملک کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیر نے پیشینگوئی کی ہے کہ موجودہ سیلاب کے نتیجے میں قوم کی تعمیر نو اور بحالی میں پانچ سال لگ سکتے ہیں۔وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اس آفت میں لوگوں کا سارا ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے۔اس بار صورتحال 2010 کے سیلاب سے بھی بدتر ہے، جس کے لیے اقوام متحدہ نے اب تک کی سب سے بڑی ڈیزاسٹر اپیل جاری کی تھی۔

اقبال نے کہا کہ مالی مدد کے لیے کسی بھی باضابطہ درخواست کے لئے تب تک انتظار کرنا ہوگا ، جب تک نقصان کے پیمانے کا پتہ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان اب عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت شراکت داروں کے ساتھ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔اس سے قبل ملک کے وزیر مفتا اسماعیل نے دعوی کیا تھا کہ پاکستان میں اچانک آنے والے سیلاب نے اس کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے بتایا تھا کہ سیلاب سے مختلف علاقوں میں کم از کم 10 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم، وزیر نے کہا کہ ان کے پاس اس وقت معیشت کے ہر شعبے کو ہونے والے نقصان کی تفصیلات نہیں ہیں۔ مفتا نے کہا کہ یہ ایک ابتدائی تشخیص ہے جو زمینی سروے کے بعد مزید بڑھ سکتی ہے۔