Thousands attend the ‘Khyber Peace March'

پشاور:(اے یو ایس )خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے خیبر میں مبینہ عسکریت پسندوں کے منظر عام پر آنے اور سرگرمیاں شروع کرنے کے خلاف مقامی سیاسی جماعتیں اور شہری احتجاج کر رہے ہیں۔قیامِ امن اور عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے اتوار کو مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عام شہریوں نے ’خیبر امن مارچ‘ کا انعقاد کیا، جس میں سیاسی کارکنوں، طلبہ، تاجروں اور مقامی شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔باڑہ میں ہونے والے مارچ میں شرکا نے امن کے حق اور تشدد کے خلاف پوسٹر اور کتبے اٹھا رکھے تھے جب کہ وہ عسکریت پسندی، دہشت گردی اور تشدد کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔صوبے میں امن ریلیوں کے انعقاد کا سلسلہ لوئر دیر میں گزشتہ ماہ8 اگست کو اس وقت شروع ہوا تھا، جب6 اگست کی رات صوبے کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکنِ صوبائی اسمبلی قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔

فائرنگ کے اس واقعے کے خلاف احتجاج کے لیے مقامی افراد سڑکوں پر نکل کر آئے تھے۔لوئر دیر کے میدانی قصبے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے منسلک افراد نے سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر قیامِ امن کے لیے سفید رنگ کے جھنڈوں اور بینرز کے ساتھ احتجاج کیا تھا جن پر قیام امن پر مبنی نعرے اور مطالبات لکھے گئے تھے۔اس ریلی کے دو دن بعد ملحقہ وادی سوات کے خوازہ خیلہ، مٹہ اور کبل میں ایک ہی وقت ہونے والی امن ریلیوں میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے تھے۔ اس احتجاج کے نتیجے میں مٹہ میں پہاڑی چوٹیوں پر موجود عسکریت پسند مبینہ طور پر نامعلوم مقام پر جانے پر مجبور ہوئے۔

سوات کے بعد باجوڑ کے ضلعی صدر مقام خار اور مہمند کے غلنئی، یکہ غنڈ اور گندہاب میں بھی اسی قسم کے جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔گزشتہ ہفتے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی اپیل پر شمالی پہاڑی ضلع بونیر کے دور افتادہ علاقے امازئی کے مرکزی تجارتی مرکز نگرئی میں اس وقت امن ریلی نکالی، جب غیر مصدقہ معلومات کے مطابق 30 سے 35 مبینہ عسکریت پسندوں نےمقامی سڑک پر گشت کیا تھا۔قبائلی ضلعے خیبر کے صحافی عزت گل آفریدی نے وائس اف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ افغانستان کے سرحد سے منسلک وادی تیراہ میں چند روز قبل بعض عسکریت پسند نظر آئے تھے جس پر امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ’خیبر سیاسی اتحاد‘ کے پلیٹ فارم سے ’خیبر امن مارچ‘ کیا گیا۔